پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا انڈسٹریز کے مالکان کو مشورہ اور رائے
معزز مالکان میڈیا انڈسٹریز
السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ
آپ کیلئے ایک بہترین مشورہ اور رائے یہ ھے کہ آپ اپنے سٹلائٹ چینلز میں ان میڈیا پرسن اور صحافیوں کو ترجیح دیں جو تجربہ یافتہ بیروزگار ھیں اور جنکا وسیع تر تجربہ ھونے کے ساتھ ساتھ فلیڈ میں نام بھی ھے۔ دیکھا یہ گیا ھے کہ ھمارے بیشتر دوست صحافی حضرات اور میڈیا پرسن ایک چینل سے دوسرے چینل چھلانگ لگاتے پھرتے ھیں اور اپنی ڈیمانڈ بڑھاتے رہتے ھیں یہ اصل میں ان بیروزگاروں کا حق مار رھے ھیں جنہیں ان سے زیادہ ضرورت ھے، یہ ٹھیک ھے کہ آگے بڑھنے ترقی کرنے کا پورا حق حاصل ھے مگر کسی مستحق و ضرورت مند بیروزگار کیلئے مشکل اور راستہ تنگ کرنا کوئی اچھی بات نہیں البتہ یہاں ایثار و قربانی اور بڑاپن پیش کرنے سے اللہ کا قرب اور خوشی حاصل ھوگی، یہ انعام و اکرام ان تمام منصب و دولت سے کہیں زیادہ بہتر ھے جو آپ چاہتے ھیں دوسرا یہ کہ آپ پر اثر اس لئے نہیں پڑیگا کیونکہ آپ تو روزگار پر ہے ہیں۔ میں یہ کہنے پر شرمندہ ھوں کہ آپ کے ساتھی کچھ ایسے بھی ہیں جو بیروزگار صحافیوں اور میڈیا پرسن کے سب سے بڑے ہمدرد مخلص اور سچے ہونے کا دعویٰ کرتے تھکتے نھیں اگر بات کروں نیوز چینلز کی تو وہاں اس قسم کے لوگ بیشمار نظر آئیں گے وہ بھول گئے ھیں کہ اللہ نے انہیں یہ مقام اس لئے نہیں دیا کہ وہ اپنے ساتھی دوست بیروزگاروں کیساتھ اس طرح کا عمل کرکے دلآزاری کا مرتکب بنیں ، میرے سامنے کتنے ایسے دوست صحافی اس دنیا سے کوچ کرگئے جو بیروزگاری کے سبب شدید ذہنی تناؤ کی وجہ سے کچھ دل کے دورہ پڑنے سے ہمیں تنہا کرگئے اور کچھ فالج کے اثر سے شدید متاثر ھوئے یقین جانئے ھم سب کو اللہ کے سامنے حساب دینا ھوگا کہ ھم نے اپنے نفس و خواہشات کی خاطر کس کس پر ظلم کیا۔ یہاں میں آپ مالکان کو بھی ذمہدار سمجھتا ھوں کہ آپ اپنے چینلز میں برکت رحمت اور خوشحالی کیلئے عدل و انصاف اور مساوات کے عمل کو سختی سے پابند کریں اور تجربہ یافتہ بیروزگاروں کیلئے کھلے دل سے راہیں کشادہ کیجئے یقین جانئے نیکی میں جق لطف ھے وہ کسی میں بھی نہیں نیکی کا صلح صرف رب دیتا ھے اگر شعور ھو تو یہ باریکی سمجھ میں آجائیگی۔ میرا ایمان ھے کہ آپ اور آپکا چینل منافقین سے ایک جانب پاک ھوجائیگا تو دوسری جانب چینل کا ماحول پرسکون خوشگوار بھی رہیگا۔ سنہ انیس سو نوے میں اس فلیڈ میں داخل ھوا بہت کچھ دیکھنے کے بعد حاصل نتیجہ یہی پایا کہ ھمارے چینلز کی ناکامی اور پریشانی کا سبب یہی ھے اور یہی عمل نان پروفیشن بھی کہلاتا ھے۔ امید ھے کہ اس بابت آپ سب غور ضرور کریں گے یہی درخواست اور مشورہ میرا پرنٹ میڈیا کے مالکان سے بھی ھے کہ اپنے پائینرز سینئرز اور مخلصین کو مقام دیں اللہ آپ کو بھی بہتر اجر کیساتھ اچھا مقام عطا کریگا۔ آمین یا رب اللعالمین۔۔۔ آپ سب کا خیر اندیش ۔۔۔۔۔
جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی؛ سابق نیوز پروڈیوسر اےآروائی نیوز کراچی ؛ ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ دستور ؛ ممبر کراچی پریس کلب
