BBC Urdu TV

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی تیسری جماعت کی طالبہ جنھوں نے ریپ کے بعد ’اپنے ہی بھائی‘ کی بیٹی کو جنم دیا

https://www.bbc.com/urdu/articles/c721ly9nerro

گھر کا دروازہ کھلا تھا، جہاں سامنے موجود ایک شخص نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے متاثرہ بچی کی والدہ سے ملنے کی درخواست کی تو انھوں نے کہا وہ تو یہاں سے جا چکی ہیں۔

مگر کہاں اور کیسے کیونکہ پولیس کے مطابق تو یہی ان کی رہائش ہے؟ بچی کے عزیز نے کہا کہ ’یہاں مشکل تھی خاندان والے اس واقعے پر ناراض ہو چکے ہیں اور کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

وہ کہنے لگے کہ ’اس صورتحال میں مجھے خطرہ محسوس ہوا اور اس لیے مجھے بچی، اس کی ماں اور بہن بھائیوں کو یہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔‘

اپنی لاٹھی کے سہارے چارپائی سے اٹھتے ہوئے انھوں نے سامنے لگے پردے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مجھے کہا کہ ’آپ دیکھ رہی ہیں لوگوں کے خوف سے ہم نے یہاں بچی کے لیے عارضی واش روم بنایا ہے۔‘

وہ گھر کے بیرونی جانب بنے واش روم کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگے ’لیٹرین یہ ہے لیکن ہم بچی کو اس پکے واش روم میں نہیں جانے دے سکتے کہ رات کو کوئی آ نہ جائے۔ یہاں گاؤں میں اس کا سگا ماموں ہے جو اس کی ماں سے اس واقعے کے بعد قطع تعلق کر چکا ہے۔‘

اس عارضی واش روم کے سامنے موجود کمرے میں فرش پر بستر، گدے اور سامان بکھرا پڑا تھا۔

متاثرہ بچی کے یہ عزیز بچی اور اس کی والدہ کے ہمراہ ہسپتال میں بھی موجود تھے۔ انھوں نے مجھے کہا کہ بچی اور اس کی والدہ کو یہاں سے آگے منتقل کر دیا ہے۔

اس مشکل راستے سے اوپر سڑک تک پہنچنے میں بھی ایک گھنٹہ لگ گیا۔

میں نے ان سے پوچھا کہ بچی کو آپ کیسے لے کر گئے یہاں سے ؟ اس سوال کا جواب نہایت تکلیف دہ تھا کہ بچی کئی گھنٹے پیدل چل کر دوسرے گاؤں گئی۔

آدھے گھنٹے تک پہاڑ پر بنی سڑک پر سفر کے بعد میں پھر سے پہاڑ کی چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں سے گزر کر متاثرہ بچی کے عزیز کے ہمراہ چل رہی تھی۔

متاثرہ بچی کو چند لمحے دیکھ کر ہی یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ اب تک صدمے کی کیفیت میں ہے (فائل فوٹو)

ٹین کی چھت سے بنے ایک چھوٹے سے کمرے کے باہر مجھے متاثرہ بچی کی والدہ اور خالہ ملیں۔ بچی کی والدہ کے چہرے پر پریشانی اور آنکھوں میں آنسو تھے۔

یہ گھر ایک ہی کمرے پر مشتمل تھا اسی کمرے میں متاثرہ بچی اور اس کے دیگر سات بہن بھائیوں کو رکھا گیا تھا۔ مجھے بچوں سے نہیں ان کی والدہ سے ملنا تھا لیکن سامنے چارپائی پر بیٹھی متاثرہ بچی اور اردگرد اس کے بہن بھائیوں کی آنکھوں میں موجود سوال، حیرت، اضطراب اور جھجھک دکھائی دے رہی تھی۔

متاثرہ بچی کو چند لمحے دیکھ کر ہی یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ اب تک صدمے کی کیفیت میں ہے۔

اس چھوٹے سے کمرے میں ایک چولہے، بوسیدہ بستروں اور اس کنبے کے لیے ناکافی برتنوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہاں واش روم تھا نہ ہی پانی کی سپلائی۔

میں نے فوراً ہی کمرے سے نکل کر بچی کی والدہ سے پوچھا کیا ہم یہاں سے کچھ دور بیٹھ سکتے ہیں۔ باہر پڑی چارپائی کے کنارے پر بیٹھتے ہوئے انھوں نے مجھے واقعے کے بارے میں بتانا شروع کر دیا۔

آبدیدہ لہجے کے ساتھ وہ مجھے بتانے لگیں ’اس روز بچی سکول سے آئی۔ شام سات بچے کے قریب اس نے مجھے کہا امی میرے پیٹ میں بہت شدید درد ہو رہا ہے، اس کے پاؤں سوج چکے تھے، وہ بار بار اپنی شلوار بدل رہی تھی۔‘

’مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میں نے نیچے مالک مکان کی بہو کو ساتھ لیا اور اسے رکشے میں بٹھا کر ہسپتال لے گئی، میرے ساتھ بچے بھی تھے، میں اپنی بیٹی کو ایمرجنسی میں لے کر گئی اور پھر شوہر سے رابطہ ہوا اور وہ بھی وہیں آ گئے۔‘

متاثرہ بچی کی والدہ یہ بھی دعویٰ کرتی ہیں کہ مبینہ ملزم بچی کا والد اور کزن ہیں لیکن ان کا بیٹا بے قصور ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ پولیس کو دیے گئے بیان میں تو ان کی بیٹی نے بتایا ہے کہ اس نے آپ کو والد کے رویے کے بارے میں بتایا تھا اور آپ کی اپنے شوہر سے لڑائی ہوئی تھی اور آپ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی۔ تو انھوں نے اس دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ ’وہ اس سے لاعلم تھیں کہ بچی کے ساتھ یہ سب ہو رہا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر یہ مجھے بتاتی تو میں کچھ کرتی۔ اس نے مجھے کبھی کچھ نہیں بتایا، یہ تو سکول جاتی تھی اور واپس آ کر بھائی سے سلائی کا کام سیکھتی تھی۔‘

وہ کہنے لگیں میں نے ہسپتال میں اسے مارا بھی کہ ’تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا تاکہ میں بروقت کچھ کرتی۔‘

وہ کہنے لگیں ’میرا اور میرے بچوں کا کیا ہو گا؟ ہم کہاں جائیں گے، مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرا شوہر میری غیر موجودگی میں یہ سب کر رہا ہے۔‘

’میں کبھی خاندان میں کسی کے مرنے پر ہی جاتی ہوں، شادی اور خوشی کے موقع پر میں کبھی بھی نہیں جاتی کیونکہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔۔۔‘

اتنے میں بچی کی خالہ وہاں آئیں اور سامنے موجود ٹین کے اس واحد کمرے کی جانب اشارہ کر کے روتے ہوئے مجھے کہنے لگیں ’تم یوں سمجھو کہ جیسے ہم ایک قبر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سب خاندان ہم سے کٹ گیا۔‘

میں نے مڑ کر سامنے موجود کمرے کو دیکھا۔ بارش اور شدید دھوپ میں ٹین کی دیواروں کے سوراخ یہاں رہنے پر مجبور اس خاندان کو محفوظ رکھنے میں مدد نہیں کر سکتے تھے۔

میرے پاس اس خاندان کو تسلی دینے کے لیے کوئی الفاظ نہیں تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کیا آپ سے کسی ادارے نے رابطہ کیا ہے تو ان کا جواب تھا: ’گھر کے اندر یہ ہوا تو بتائیں ہم اب کس پر اعتبار کریں۔‘

نوزائیدہ بچی کا ڈی این اے ریپ سے متاثرہ بچی کے بھائی سے میچ
بچی کی نارمل ڈیلیوری سے اس کی نوزائیدہ بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔

اس گاؤں سے دور اس واقعے سے بے خبر نومولود بچی اب ایک ٹرسٹ کے پاس ہے۔ میں جب اس سے ملی تو وہ ایک کمرے کے کونے میں آسمانی رنگ کے بستر پر گہری نیند میں تھی، یہاں اس کی نگہداشت ایک خاتون کر رہی ہیں۔

اس ادارے کے منتظم نے مجھے بتایا کہ میرے پاس چار مزید ایسے بچے ہیں، جنھیں خاندان والے چھوڑ چکے ہیں۔

اس واقعے کو گزرے چار ہفتے بیت گئے ہیں لیکن ڈی این اے رپورٹ مرتب کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگا۔

پولیس حکام کے مطابق بچی کا ڈی این اے ریپ کا شکار ہونے والی بچی کے بھائی سے میچ ہوا اور وہ اس کا جینیاتی والد ہے۔

پولیس اب مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر عدالت سے ملزمان کی حوالگی کی درخواست کرے گی، جو اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ کا انتظار تھا۔ اب ملزمان سے بیانات لیے جائیں گے اور متاثرہ بچی اور اس کی والدہ سے بھی بیان لیا جائے گا۔

ڈی این اے ٹیسٹ سے منسلک عملے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایا کہ ’میرے کیریئر میں یہ پہلا موقع ہے کہ میں اس نوعیت کا ڈی این اے کر رہا ہوں اور چونکہ اس میں والد یا بھائی پر الزام تھا اور سارے اشارے بھی گھر کے اندر ہی جا رہے تھے اس لیے کسی بھی غلطی سے بچنے کے لیے ہمیں مزید وقت درکار تھا تاکہ مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا سکے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ڈی این اے رپورٹ میں نومولود کی ولادت کا سبب متاثرہ بچی کا بھائی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ بچی والد اور بھائی دونوں پر الزام عائد کرتی ہے۔ ایسے میں پولیس تو اس الزام کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد بھی چالان میں شامل رکھے گی لیکن سائنسی بنیادوں پر یہ ثابت کرنا ممکن نہیں کہ والد بھی ایسا ہی کرتے رہے ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپ کے الزامات کا پتا لگانے کے لیے مخصوص مدت میں ٹیسٹ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

Exit mobile version