قرض سے آزادی کا راستہ!
انجینئر ندیم ممتاز قریشی
پاکستان کی معیشت اس وقت بحران کی اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں عام آدمی کی زندگی قرضوں کے بوجھ تلے دب ہوئی ہے۔ آئے دن اخبارات اور ٹی وی چینلز پر ملکی معیشت کے تباہ کن حالات پر مضامین اور تجزیے شائع اور نشر ہوتے ہیں لیکن یہ تحریریں زیادہ تر صورتحال کا تجزیہ کرتی ہیں جبکہ حل پیش کرنے میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ایسا نہیں کہ ہمارے ماہرین اقتصادیات ان مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہیں،بلکہ درحقیقت مسئلہ اتنا پیچیدہ ہو چکا ہے کہ اس کا حل نکالنا انتہائی مشکل ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی مسئلہ نا قابل حل نہیں ہوتا، بس عزم، بصیرت اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورتحال کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں حکومت کی آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان کی کل سالانہ آمدنی تقریباً 17.8 ٹریلین روپے ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 18.9 ٹریلین روپے ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کر رہی ہے،جو ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے لیکن مسئلہ صرف اتنا نہیں ہے،اصل خطرہ ہمارے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی اور قرض کی ادائیگی میں پوشیدہ ہے۔حکومت کی ٹیکس آمدنی کا 75 فیصد صرف قرض کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے اور حکومت مزید نئے قرضے بھی لے رہی ہے جس سے اگلے سال قرض کی ادائیگی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔پاکستان کے مجموعی قرضے اس وقت تقریباً 288 ارب ڈالر ہیں جن میں سے 127 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں پر مشتمل ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کل قرضوں کا 55 سے 56 فیصد حصہ بیرونی قرضوں پر مشتمل ہے۔ رواں مالی سال میں ہمیں غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لئے 28.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے،جبکہ ہماری بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا تخمینہ تقریباً اتنا ہی ہے۔
ان حالات میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر ہم نے اپنی معاشی حکمت عملی میں تبدیلی نہ کی تو ایک دن آئے گا جب پاکستان کی معیشت صرف قرض ادا کرنے کے لئے ہی موجود ہوگی۔ عوام کے فلاح و بہبود،تعلیم،صحت اور بنیادی سہولتیں سب پس پشت ڈال دی جائیں گی۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ان حالات میں بھی امید کی کوئی کرن باقی ہے؟جواب ہے: ہاں۔ لیکن اس کے لئے ہمیں چند سخت فیصلے لینے ہوں گے۔سب سے پہلا اور مشکل ترین قدم یہ ہوگا کہ ہم غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر عارضی پابندی عائد کریں،جسے اقتصادی اصطلاح میں ”ڈیٹ موریٹوریم“ کہا جاتا ہے۔اس اقدام سے ہمیں 28 ارب ڈالر کی خطیر رقم بچانے کا موقع ملے گا جو کہ صحت، تعلیم، اور دیگر بنیادی سہولتوں پر خرچ کی جا سکتی ہے لیکن یہ اقدام عارضی ہوگا اور اس کا مقصد قرضوں کی ادائیگی سے انکار نہیں بلکہ ہمیں کچھ وقت حاصل کرنا ہے تاکہ ہم اپنی معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کر سکیں اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض میں نرمی یا ریلیف کی بات چیت کر سکیں۔ڈیٹ موریٹوریم کے ساتھ ساتھ ہمیں چند دیگر سخت اقدامات بھی اٹھانے ہوں گے۔جن میں تمام غیر ضروری درآمدات جیسے گاڑیاں، پرتعیش اشیاء اور غیر ضروری غذائی مصنوعات پر پابندی عائد کی جائے۔تمام نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کو یا تو بند کیا جائے یا انہیں فروخت کر دیا جائے تاکہ سرکاری اخراجات میں کمی کی جا سکے۔کامیاب سرکاری اداروں کے انتظامی بورڈز کو خودمختاری دی جائے اور انہیں وزارتوں کی بیوروکریسی کے زیر کنٹرول سے آزاد کیا جائے۔
ٹیکس کے نظام میں بھی بہتری کی اشد ضرورت ہے۔اگر موجودہ ٹیکس ڈھانچہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کی وجہ سے کارآمد نہیں تو اسے ختم کر کے ایک نیا، مؤثر اور جدید ٹیکس سسٹم متعارف کرایا جائے۔ ہمیں اپنی برآمدات کی مقدار اور معیار دونوں میں اضافہ کرنا ہوگا، خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر کی ترقی پر زور دینا ہوگا۔ اس حوالے سے بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے،جہاں آئی ٹی سیکٹر سے ہونے والی آمدنی سعودی عرب کی تیل سے ہونے والی آمدنی سے زیادہ ہے۔یقیناً ڈیٹ موریٹوریم کا فیصلہ عالمی مالیاتی اداروں کی نظروں میں دیوالیہ پن کی علامت ہوگا، جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ ہمیں عالمی مالیاتی مارکیٹ سے نکال دیا جائے گا،جو کہ اگرچہ عارضی جھٹکا ہوگا،لیکن شاید ہمارے لئے فائدہ مند بھی ثابت ہوکیونکہ اس وقت آزادانہ قرضے لینا ہماری معیشت کے لئے زہر قاتل بن چکا ہے۔بین الاقوامی سطح پر ہمارے خلاف مقدمات دائر کئے جا سکتے ہیں۔ان حالات میں غیر ملکی ممالک ہمارے بیرون ملک اثاثے ضبط کر سکتے ہیں۔اس اقدام سے ہمارے سفارتی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔یہ تمام خطرات اور مشکلات اپنی جگہ لیکن ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا ہم مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دب کر تباہی کا انتظار کریں یا پھر ایک سخت لیکن ممکنہ راستے پر چلنے کی ہمت کریں۔ اس وقت ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں۔ایک طرف وہ دھندلا راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے ہم رفتہ رفتہ ختم ہو جائیں گے اور دوسری طرف وہ کٹھن راستہ ہے جس پر چل کر ہم شاید ایک مضبوط،خودمختار اور خوشحال قوم کے طور پر ابھر سکیں۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔
٭٭٭
