*پاکستان کی تعلیم گاہ جنس پرستی کا مرکز بن گئیں، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*اسکول ہو یا کالج، کالج ہو یا یونیورسٹیز میں طالبات غیر محفوظ، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*وزراء تعلیم سمیت صدر اور وزیراعظم غفلت اور مدہوشی میں مبتلا، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*پاکستان بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی درسگاہوں کے ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کا نفسیاتی معائنہ و علاج ناگزیر، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*پاکستان بھر کے دینی مدارس، دارلعلوم اور اسلامک سینٹرز بھی غیر اخلاقی معاملات سے بچ نہ سکے،سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*دین محمدی ﷺ میں سزا و جزا اسی لئے رکھا گیا ھے کہ برائی کا فی الفور خاتمہ کیا جائے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*اسلامی نظام ریاست میں عدل و انصاف، امن و سکون، ترقی و کامرانی، تہذیب و اخلاق بنیادی حیثیت کا حامل ھے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*پارلیمینٹ فیصلہ کرلے آیا وہ مکمل قرآنی احکامات پر قوانین عمل ہوگی یا دجالی جمہوریت پر قائم رہے گی، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*ملک پاکستان اور ریاست پاکستان کی سالمیت کیلئے آرمی چیف کو صرف اللہ ﷻ رسول ﷺ اور قرآن پاک کی جانب دیکھنا چاہئے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*قائداعظم کی کوشش لاکھوں جانوں کے نذرانے کے طفیل اسلامی اسٹیٹ کا قیام لایا گیا تھا، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*اگر جمہوریت اللہ رسول اور قرآن سے زیادہ معتبر تھی تو قائداعظم نے جمہوری نظام کیوں نہیں نافذ کیا تھا،سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*قائداعظم کی تحقیق اور دوراندیشی نے پہلے ہی نظام جمہوریت کو یہودیوں کی سازش قرار دیدیا تھا، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*پاکستان ہر مافیاء کے پنجوں میں پھنس کر رہ گیا ھے، پاکستان کی حقیقی آزادی ان مافیاؤں سے جہاد ھے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
کراچی (پریس رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار نے ملکی حالات و واقعات کے متعلق دو ٹوک الفاظ میں حقائق عیاں کردیئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تعلیم گاہ جنس پرستی کا مرکز بن چکی گئیں ہیں، اسکول ہو یا کالج، کالج ہو یا یونیورسٹیز میں ہر عمر کی طالبات غیر محفوظ اور عدم تحفظ محسوس کرتی ہیں، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ وفاق و صوبائی وزراء تعلیم، مشیران تعلیم، سیکرٹریز و ڈائریکٹرز سمیت ریاست پاکستان کے صدر، وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف غفلت اور مدہوشی میں مبتلا ہیں، یہ سب اہم ترین منصب پر فائز اس وقت تک لاعلم رہتے ہیں جبتک میڈیا واقعہ و حادثات کی بریکنگ نہ کرے اور ضروری نہیں کہ ہر واقعہ ہر حادثہ میڈیا میں لایا گیا ہو۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ بھاری بھاری ٹیکس عوام سے وصول کرنے والے ان منصب پر فائز بڑی بڑی مراعاتیں سہولتیں اور مشاہرے کیا اسلئے لیئے جاتے ہیں کہ پاکستان بھر کی طالبات کو ظالم مافیاء، بدترین جنسی بھیڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، اور حقائق کو تلف کرنے مٹانے اور سچ کو چھپانے والوں کیلئے کوئی سخت عمل نہیں، تو پھر اس کا مطلب ریاست اور حکومت ہی انتشار بدامنی بے سکونی چاہتی ھے ایسی حکومت اور ریاست تا دیر نہیں چلتی، مزید برآں انھوں نے بتایا کہ پاکستان بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی درسگاہوں کے ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کا نفسیاتی معائنہ و علاج ناگزیر ہوچکا ھے جبکہ پاکستان بھر کے دینی مدارس، دارلعلوم اور اسلامک سینٹرز بھی غیر اخلاقی معاملات سے محفوظ نہیں رھے، دین محمدی ﷺ میں سزا و جزا اسی لئے رکھا گیا ھے کہ برائی کا فی الفور خاتمہ کیا جائے، اسلامی نظام ریاست میں عدل و انصاف، امن و سکون، ترقی و کامرانی، تہذیب و اخلاق بنیادی حیثیت کا حامل ھے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ پارلیمینٹ فیصلہ کرلے آیا وہ مکمل قرآنی احکامات پر قوانین عمل کریگی یا دجالی جمہوریت پر قائم رہے گی، ملک پاکستان اور ریاست پاکستان کی سالمیت کیلئے آرمی چیف کو صرف اللہ ﷻ رسول ﷺ اور قرآن پاک کی جانب دیکھنا چاہئے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ قائداعظم کی کوشش اور لاکھوں خاندان تحریک پاکستان نے اپنی جانوں کے نذرانے کے طفیل اسلامی اسٹیٹ کا قیام عمل میں آیا تھا، پاکستان موجودہ اشرفیہ کے باپ کی جاگیر نہیں جسے پاکستان دشمنوں کی ہدایت پر چلایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر جمہوریت اللہ و رسول اور قرآن سے زیادہ معتبر تھی تو قائداعظم نے جمہوری نظام کیوں نہیں نافذ کیا تھا یقیناً قائداعظم کی تحقیق اور دوراندیشی نے پہلے ہی نظام جمہوریت کو یہودیوں کی سازش قرار دیدیا تھا، قائداعظم جمہوری نظام کے انتہائی مخالف تھے، مورخ و صحافی کے وہ کلمات آج بھی تاریخی اوراق میں موجود ہیں جب انگلستانی صحافی نے چند روز قبل پاکستان سوال کیا تھا کہ مسٹر جناح آپ پاکستان میں کونسا نظام رائج کریں گے تو جناح نے واضع صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ "ہمارے پاس نظام چودہ سو سال قبل ہی آگیا تھا اسی کو نافذ کریں گے”۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ پاکستان ہر محاذ پر، ہر وزارت میں، ہر ادارے میں ہر شعبہ میں حتیٰ کہ زندگی کے ہر لمحات میں مافیاء نے اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں اور ریاست پاکستان سمیت پاکستانی عوام کو دبوچ کر اور بےبس کر دیا ھے، پاکستان کی حقیقی آزادی اور قوم کی خوشحالی ان مافیاؤں کے خاتمہ سے مشروط ھے یہ مافیاء ملک و قوم کیساتھ جونک کی طرح چمٹ چکا ھے جو بہت بڑے پیمانے پر گرینڈ آپریشن اور جہاد کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتا ھے۔۔۔!!
