BBC Urdu TV

پاکستان کو پولیو فری بنانے کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

پاکستان کو پولیو فری بنانے کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

رواں برس میں پولیو کے 39 کیسز رپورٹ ہونا تشویش ناک امر ہے:چیئرمین
والدین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر بار پولیو کے دو قطرے ضرور پلوائیں:پیغام
ملک کو پولیو فری بنانے کے لیے اصل ہدف پولیو مہمات کا اہتمام نہیں بلکہ سو فیصد بچوں کی ویکسی نیشن ہو:گفتگو

چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کا 24 اکتوبر ورلڈ پولیو ڈے پر پاکستانی قوم کے نام خصوصی پیغام

چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے 24 اکتوبر ورلڈ پولیو ڈے پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان کو پولیو فری بنانے کی ضرورت ہے،ملک کے مختلف شہروں سے پچھلے دو تین روز میں پولیو کے 6 نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ رواں برس میں اب تک پولیو کے 39 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اور 200 سے زائد ماحولیاتی نمونوں میں اس وائرس کی تصدیق بھی ہوچکی ہے جوکہ انتہائی تشویش ناک ہونے کے ساتھ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے اوربھرپور آگاہی مہم چلانے کے باوجود پولیو متاثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کا مستقبل بچے عمر بھر کی معذوری سے بچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ نہ صرف پولیو کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ یہ مرض اُن شہروں تک پھیلتا جارہا ہے جو اس سے قبل پولیو سے پاک قرار پا چکے تھے۔ انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان کو پولیو فری بنانے کے لیے اصل ہدف پولیو مہمات کا اہتمام نہیں بلکہ سو فیصد بچوں کی ویکسی نیشن ہونی چاہیے کیونکہ جب تک چند بچے بھی پولیو کے قطروں سے محروم رہیں گے ملک پر پولیو فری نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ والدین کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پر پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور اُن کی صحت پر خصوصی توجہ دیں۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
23-10-2024

Exit mobile version