پاکستان کو بے روزگاری اور مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا جارہا ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
ملک کی 47 فیصد سے زائد آبادی خطہ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے:چیئرمین
پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی1587ڈالر اور بنگلہ دیش میں 2624ڈالر ہے:گفتگو
حکومت و اپوزیشن عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہیں
گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران عوام کی آمدن میں اُس حساب سے اضافہ نہیں ہوا جس طرح مہنگائی بڑھی
( )چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان کو بے روزگاری اور مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا جارہا ہے اور بدقسمتی سے وڈیرے و جاگیر دار ہماری قسمتوں کے فیصلے کررہے ہیں،ایک عالمی رپورٹ کے مطابق ملک کی 47 فیصدسے زائد آبادی خطہ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور فی کس سالانہ آمدنی 1587 ڈالر ہے جبکہ بنگلہ دیش میں فی کس سالانہ آمدن 2624 ڈالر،بھارت میں 2698 ڈالر ہے اور 2022ء میں دیوالیہ ہونے والے سری لنکا میں فی کس سالانہ آمدن 3929 ڈالر اور نیپال میں 4062 ڈالر ہے،گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران عوام بالخصوص تنخواہ دار طبقے کی آمدن میں اُس حساب سے اضافہ نہیں ہوا جس حساب سے مہنگائی بڑھی ہے جس کا نتیجہ غربت میں اضافے کی صورت میں نکلا ہے اور حکومت و اپوزیشن عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مگن ہے کسی کو بھی عوامی مسائل کے حل کی کوئی پرواہ نہیں۔ان خیالات کا اظہار غربت و مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 3.20 ڈالریومیہ سے کم کمانے والی آبادی کی شرح جو 2021 ء میں 38 فیصد تھی وہ گزشتہ برس 42.8 فیصد تک پہنچ گئی اور خطہ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد میں قریباً ایک کروڑافراد کا اضافہ ہوا اس کے باوجود حکمران طبقہ سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہا ہے جوکہ انتہائی افسوس ناک اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
25-11-2024
