پاکستان کا تعلیمی نظام
تحریر: نازش جبین
تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔کیونکہ اگر کوئی ملک تعلیم کے میدان میں ترقی کرے گا تو وہ سائنس اور جدید ٹیکنولوجی سے فائدہ اٹھا سکے گا۔اور ہنر مند افراد اس قوم میں جنم لے سکیں گے کیونکہ تعلیم، جدید ٹیکنولوجی،سائنس اور ہندمند افراد یہ چار چیزیں کسی ملک کی ترقی کیلئے بنیاد تصور کی جاتی ہیں ہمارے مذہب میں بھی تعلیم پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کو بہت اہمیت دی اور ایسی لئے جنگی قیدیوں کی رہائی مسلمان بچوں کو پڑھانے کے بدلے میں رکھی گئی تھی۔لیکن اس کے باوجود پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ہم ان سے فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے ابتدائی تعلیم بچوں کو ٹھوس بنیاد میہا کرتی ہے۔ اگر سکول کا ماحول اور اساتذہ کی حکمت عملی اچھی ہو تو یہ دونوں عوامل بڑھتے بچوں کو ترقی کی جانب راغب کرتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں ترقی حاصل کرنے کے لئے ایک نظام کی ضرورت ہے۔ جتنا یہ نظام بہترین ہوگا۔اتنا ملک جلد ترقی کرے گا۔اگر ہم یورپی ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک زبردست صحت مند تعلیمی نظام موجود ہے۔اس لئے وہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔پاکستان میں تعلیمی نظام نے ابھی تک نشونما نہیں پائی ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام روز بروز خستہ حال ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے سکولوں کا کوئی حال نہیں ہے۔ گورنمنٹ سکولز کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ہیں کیہں سکولوں میں پانی کھڑا ہے تو کہیں بھینسیں نہلائی جا رہی ہیں یہ حال نہ صرف پسماندہ علاقوں میں بلکہ شہروں میں بھی ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں سے لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں کے بجائے نجی تعلیمی اداروں میں کروا رہے ہیں۔ سرکاری سکولوں کا سالانہ نتیجہ نجی سکولوں کے مقابلے میں نہایت خراب ہوتا ہے۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ اپنے اپنے مضامین میں ماہر ہوتے ہیں۔ پر بھی تعجب کی بات ہے کہ معیار میں بہت فرق ہوتا ہے۔ہمارے تعلیمی نظام کی خستہ حالی کی سب سے بڑی وجہ غلط پالیسیاں اور کرپشن ہے جو ہمارے تعلیمی نظام کو اپنے پاوں پر کھڑا نہیں ہونے دیتے۔ غلط پالیسیاں اور کرپشن کسی بھی ملک کو دھمیک کی طرح کھا جاتی ہیں۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ ہمارے زوال کی سب سے بڑی وجہ کرپشن اور شفاف نظام کا نہ ہونا ہے۔ اگر ہم ملک تو ترقی کی راہوں پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیمی نظام کو شفاف اور معتدل بنانا ہوگا۔ اور کرپشن کی روک تھام کیلئے جلد از جلد کوئی موثر اقدام کرنے ہونگے۔
