BBC Urdu TV

پاکستان کا بھارتی ادویات پر مکمل پابندی، خود انحصاری اور قومی سلامتی کا عزم۔

پاکستان کا بھارتی ادویات پر مکمل پابندی، خود انحصاری اور قومی سلامتی کا عزم۔

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پاکستان نے ایک تاریخی اقدام کے طور پر بھارت سے فعال ادویاتی اجزاء (APIs) اور تیارشدہ ادویات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ طبی ماہرین اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قدم کا بنیادی مقصد ملکی صحت کے نظام میں خود انحصاری کو فروغ دینا اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات سے نمٹنا ہے۔

ادویات میں بھارتی انحصار

طبی ادارے برسوں سے بھارت پر تقریباً ساٹھ فیصد APIs اور لیبارٹری میں استعمال ہونے والی دواؤں کے لیے منحصر تھے۔ ان اشیاء میں اینٹی ریبیز سیرمز، ایم ایم آر ویکسینز، آنکو-BCG کینسر ٹریٹمنٹس، مونونوکلونل انٹی باڈیز اور اینٹی سنیگ وینم شامل ہیں۔ ہر سفارتی تنازعے کے دوران ان ادویات کی دستیابی خطرے میں پڑ جاتی تھی، جس سے ملک بھر کے ہسپتالوں میں سپلائی کا بحران پیدا ہو سکتا تھا۔

دہشت گردی کی مالی معاونت کے شواہد

خفیہ اداروں کی رپورٹوں کے مطابق بھارتی ادویاتی برآمدات کی آمدنی کا ایک حصہ دہشت گرد تنظیموں تک پہنچ رہا تھا۔ ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ قانونی طور پر آنے والی دوائیں کراچی کے بازاروں میں بم دھماکوں اور دیہی شاہراہوں پر IED حملوں کی مالی اعانت کا ذریعہ بنتی تھیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر کاروباری تعلقات عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے تھے۔

حکومتی حکمتِ عملی اور فوری اقدامات

ادویات کی پابندی کے اعلان کے فوراً بعد ڈرَگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) اور وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز نے 2019 کے ہنگامی منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا۔ چند روز میں چین، بنگلہ دیش، ملائشیا، انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور یورپی دائرے کے کمپنیوں کے ساتھ نئے معاہدے کیے گئے۔ چین سے API کی فراہمی چالیس فیصد تک بڑھائی گئی، بنگلہ دیش سے جنیرکس ادویات اور خام اجزاء درآمد کیے گئے، جبکہ ملائیشیا اور انڈونیشیا نے ویکسین انٹرمیڈیئٹس اور کیمیائی ری ایجنٹس کی فراہمی تیز کی۔

فوری نتائج اور طویل المدتی منصوبے

اس متواتر منصوبہ بندی کے نتیجے میں اینٹی ریبیز امیونوگلوبلن، اینٹی تیموسائٹ گلوبولن اور دیگر اہم دواؤں کی قلت کا خطرہ ختم ہو گیا۔ ساؤتھ کوریا اور جرمنی کے ذریعے مونونوکلونل انٹی باڈیز کی درآمد سے بھی علاج کے مخصوص شعبے مستفید ہوئے۔ ساتھ ہی نئی API پلانٹس کے قیام کے لیے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں، جو مستقبل میں ملکی پیداوار کو مضبوط کریں گے۔

ریگولیٹری نرمی اور کلینیکل یقین دہانی

ادویات کی قلت سے بچاؤ کے لیے حکومت نے کسٹمز کلیئرنس اور رجسٹریشن کے عمل کو خصوصی طور پر تیز کیا۔ بین الوزارتی کمیٹی روزانہ اسٹاک لیول کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی ہسپتال یا کلینک میں ادویات کم نہ پڑیں۔ طبی شعبے کے نمائندوں نے اس اقدامات کو مریضوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

اقتصادی تنوع اور عوامی تائید

ادویات کے علاوہ پاکستان نے اپنی عمومی درآمدات میں بھی متنوع ذرائع اپنائے ہیں۔ ترکی سے ٹیکسٹائل، ملائشیا سے الیکٹرانکس، جاپان و جنوبی کوریا سے آٹوموبائل پارٹس، اور چین و یورپ سے زرعی مشینری منگوائی جا رہی ہے۔ صارفین نے قیمتوں میں معمولی اضافے کو قومی سلامتی کے تناظر میں قبول کیا، اس اقدام کو “سرسبز خود انحصاری” کا ثبوت قرار دیا۔

نئی دہلی پر اثرات اور عالمی پیغام

وزارتی حلقوں کے مطابق بھارتی صنعت کار پابندی سے ہونے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور تسلیم کر رہے ہیں کہ اقتصادی انحصار دو طرفہ فوائد کے لیے ہوتا ہے۔ عالمی برادری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے معاشی تعلقات کو دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے لیے استعمال نہیں ہونے دے سکتا۔

مستقبل کے چیلنجز اور عزمِ مصمم

ماہرین نے بندرگاہی سہولیات کی توسیع، کرنسی کی اتارچڑھاؤ پر قابو اور کسٹمز ان فورسمنٹ کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم حکومتی عہدیداروں کا موقف ہے کہ قومی یکجہتی اور ٹھوس پالیسیوں کے ذریعے یہ رکاوٹیں دور کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کا یہ فیصلہ “خودِ دفاع” ہے جس نے ثابت کیا کہ عوام کی صحت و سلامتی ہمیشہ اولین ترجیح رہے گی۔

Exit mobile version