BBC Urdu TV

پاکستان ریلوے بدترین زوال کا شکار، نظام کی بحالی اولین ضرورت ہے جاوید اقبال میمن ڈویژنل

*پاکستان ریلوے بدترین زوال کا شکار، نظام کی بحالی اولین ضرورت ہے جاوید اقبال میمن ڈویژنل انفارمیشن سیکرٹری ریلوے ورکرز یونین کراچی ڈویژن*

*پاکستان ریلویز کو اس کٹھن وقت میں اسٹیشنز کی تزئین و آرائش نہیں، کرپشن کے خاتمے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کی ضرورت ہے*

*کمرشل برانچ یتیم، تمام برانچز میں ملازمین کی کمی، پٹریوں کی مرمت، ڈمی کوچز کو ختم کرکے نئی کوچز کی شدید ضرورت ہے*

کراچی (ریورٹ: جاوید صدیقی) ریلوے ورکرز یونین کراچی ڈویژن کے ڈویژنل انفارمیشن سیکرٹری جاوید اقبال میمن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ریلوے اپنی تواریخ کے بدترین زوال سے گزر رہی ہے، جسے دوبارہ پٹری پر لانے کیلئے برسوں کی محنت، مخلص قیادت اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصبہ کے تحت وزیر ریلوے کو اصل مسائل سے ہٹا کر اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش اور ویٹنگ رومز کی صفائی جیسے سطحی کاموں میں مصروف رکھا جارہا ہے، حالانکہ ادارے وزراء نہیں بیوروکریسی چلاتی ہے۔ آج ریلوے بلور دور سے بھی بدترین دور میں داخل ہوچکی ہے جب انجن کیلئے ڈیزل چندہ کرکے خریدا جاتا تھا۔ جاوید اقبال میمن کے مطابق ریلوے کے مختلف شعبوں میں شدید اسٹاف کمی ہے، صرف ٹرانسپورٹیشن کی چھتیس برانچز میں کوئی بھی برانچ مکمل عملہ نہیں رکھتی۔ پٹریوں کی مرمت، پتھروں کی فراہمی، کرنے خستہ حاک کوچز کے خاتمے اور نئی کوچز اور کمرشل برانچ کی بحالی فوری وقت کی ضرورت ہیں تاکہ حادثات روکے جاسکیں اور عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل برانچ جو ریلوے کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھی، افسران کی ذاتی مفادات کی پالیسیوں کے باعث یتیم و لاوارث ہوچکی ہے۔ اگر اسے ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا جائے تو ادارہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ آخر میں ان کا کہنا تھا۔ "کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں، ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے،”۔ انجام گلستاں کیا ہوگا۔

Exit mobile version