پاکستان بھر کے یوجیز اور کلبس عہدیداران سے گزارشات
پاکستان بھر کے یوجیز اور کلبس عہدیداران سے گزارشات ییش خدمت عرض یہ ھے کہ دورِ حاضر میں ایسے ایسے صحافیوں کا معاشی قتل ھوا ھے جنھوں نے پندرہ سے پچیس سال کئی تو تیس سال سے بھی شعبہ صحافت سے جڑے رہے وہ صحافت میں نہ صرف ماہر ہیں بلکہ ان میں کئی اساتذہ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ میں ایسے کئی سینئرز کو ذاتی طور پر جانتا ھوں جو استاد صحافت کی حیثیت رکھتے ہیں اور بیروزگار بھی ہیں۔ یہ وہ معتبر صحافی ہیں جو با ضمیر خود دار اور حساس بھی ہیں۔ یہ نہ مالکان کے سہولتکار بن سکتے ہیں اور نہ ہی ناجائز خواہشات پائے تکمیل کرسکتے ہیں۔ اب یہ تمام یوجیز اور کلبس کے عہدیداروں کی اخلاقی اور پروفیشنل ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان متاثرین بیروزگار کیلئے مثبت عملی اقدامات کریں۔ اس میں تمام ممبران کو عہدیداران کا ساتھ دینا چاہئے۔ ایک صحافی اعلیٰ و بلند منصب پر ھوتے ہوئے اپنے متاثر صحافیوں کو تنہا نہیں چھوڑتا یہ روایت جاری رہنی چاہیئے۔۔۔۔
جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور و ممبر کراچی پریس کلب
