پاکستان ایک زرعی ملک مگر زراعت پر وہ توجہ نہیں دی جارہی جو دینے کی ضرورت ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
فصلات کے جعلی بیج اور سپرے سے کسانوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے،حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے:گفتگو
مستقبل پاکستان زراعت کی بحالی اور کسانوں کو درپیش مسائل کے حل تک خاموش نہیں بیٹھے گی:چیئرمین
کھادوں،بیجوں اور سپرے کی قیمتوں میں سوفیصد ہوچکا ہے مگر کسانوں کو فصلات کے مناسب ریٹس نہیں مل رہے
چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کی زراعت کی بحالی اور کسانوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے گفتگو
چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر زراعت پر وہ توجہ نہیں دی جارہی جو دینے کی ضرورت ہے، گندم،کپاس،دھان اور دیگر فصلوں کے جعلی بیج اور سپرے کے استعمال سے جہاں کسانوں کا معاشی استحصال ہورہا ہے وہاں ملک میں غذائی بحران بھی ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے مگر زراعت دشمن مافیا کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی جس کی وجہ سے ان مافیاز کو شہ مل رہی ہے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ حکومتی سطح پر شعبہ زراعت کی بحالی کے دعوے اور وعدے تو تواتر سے کئے جارہے ہیں مگر اس حوالے سے عملی اقدامات کا فقدان ہے،گزشتہ دو سالوں میں کھاد،بیجوں اور سپرے کی قیمتوں میں 100 فیصد ہوچکا ہے مگر جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو کسان کو اس کے ریٹس نہیں ملتے جس کے باعث ان کو درپیش مسائل و پریشانیاں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں،مستقبل پاکستان کی تمام تر ہمدردیاں محنت کش کسانوں کے ساتھ ہیں ان کی آواز کو ہر سطح پر بلند کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار شعبہ زراعت کی بحالی اور کسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جعلی اور غیر منظور شدہ بیج اور ناقص سپرے سے جہاں کسانوں کا معاشی استحصال ہورہا ہے وہاں فصلات کی پیداوار بھی شدید متاثر ہورہی یے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ شعبہ زراعت کی بحالی اور کسانوں کی خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ حکومت کسانوں ریلیف فراہم کرتے ہوئے جعلی زرعی اجناس مافیاز کیخلاف بھی شکنجہ سخت کرے تاکہ زراعت دشمن عناصر کا حقیقی معنوں میں خاتمہ ممکن ہو۔
