BBC Urdu TV

پاکستان آبی قلت کا سامنا کرنیوالے ممالک میں سر فہرست ہے:انجینئر ندیم ممتا ز قریشی

پاکستان آبی قلت کا سامنا کرنیوالے ممالک میں سر فہرست ہے:انجینئر ندیم ممتا ز قریشی

ایک اندازے کے مطابق ہر سال دستیاب پانی کی 60فیصد مقدار ضائع ہورہی ہے:گفتگو

خشک سالی سے بچنے کیلئے آبی ذخائر کی تعمیر کے ساتھ پانی کا محفوظ استعمال یقینی بنانا ہوگا:چیئرمین

پانی کے بڑھتے ہوئے ضیاع کو کم کرنے کی ضرورت، پانی کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا

چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کی ملک میں بڑھتی ہوئی آبی قلت کے حوالے سے خصوصی گفتگو

چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان آبی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے،پانی ذخیرہ کرنے کی کم صلاحیت آبی ذخائر کی کمی کی بڑی وجہ ہے، دوسرا مسئلہ دستیاب پانی کے استعمال کا ہے کیونکہ پانی کے وسائل کے محتاط استعمال کا رجحان نہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال دستیاب پانی کی 60فیصد مقدار ضائع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ملک میں آبی کے قلت کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں، خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ آبی ذخائر کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ پانی کا محتاط استعمال بھی بہت ضروری ہے، بدلتے ہوئے موسموں کے ساتھ یہ طے ہے کہ پانی کی فراہمی کے روایتی اور تاریخی دورانیے تبدیل ہورہے ہیں اور خشک سالی کے دورانیے میں اضافہ ہورہا ہے،پاکستان میں آبی ذخائر کے قیام کے دعوے اور وعدے تو بہت ہوئے مگر بدقسمتی سے اُن پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوپارہا جس کی وجہ سے ملک میں آبی قلت کے خطرات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں اگر حکومت بارشو ں کے پانی کو محفوظ بنانے کا مناسب انتظام کرلے تو اس سے جہاں جانی و مالی نقصانات میں کمی ہوگی وہاں پانی کی قلت کو بھی دور کرنے میں مدد ملے گی۔ان خیالات کا اظہار خشک سالی کے خطرات کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پانی کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اس کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ہر ایک فرد اپنا اپنا کردار ادا کرے تاکہ پانی کی کمی کے جو خطرات تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اُن میں کمی واقع ہو

Exit mobile version