ٹلہ جوگیاں : خاموش پہاڑی، بولتی تاریخ
تحریر: عبدالرحمن قادری
ضلع جہلم کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ٹلہ جوگیاں برصغیر کے اُن چند مقامات میں شامل ہے جہاں تاریخ، روحانیت اور فطرت ایک دوسرے میں اس طرح مدغم نظر آتی ہیں کہ ایک خاموش مگر گہری داستان جنم لیتی ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً 3,200 فٹ بلند یہ پہاڑی صدیوں تک جوگیوں، سنیاسیوں اور اہلِ ریاضت کا مسکن رہی، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ مقام اسلامی صوفی روایت کے فکری مباحث اور روحانی تصورات سے بھی جڑتا چلا گیا۔
لفظ “ٹلہ” پنجابی زبان میں پہاڑی کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ “جوگیاں” سے مراد جوگی ہیں۔ تاریخ دانوں کے مطابق یہاں ناتھ جوگی فرقے کے پیروکار آباد رہے، جنہوں نے عبادت گاہیں، تالاب، مراقبے کے حجرے اور رہائشی ڈھانچے تعمیر کیے۔ اگرچہ یہ عمارتیں آج شکستہ حالت میں ہیں، مگر ان کے آثار اس مقام کی طویل روحانی روایت کی گواہی دیتے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ٹلہ جوگیاں جیسے مقامات انسان کو زہد، فکرِ آخرت اور نفس کے محاسبے کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ قرآنِ کریم بارہا انسان کو تفکر اور تنہائی میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ خاموش پہاڑ، بلند چوٹیاں اور فطرت سے قربت وہ ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں انسان دنیا کی عارضی حقیقت کو پہچاننے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں اسلامی صوفیا نے بھی خلوت اور مجاہدہ کو روحانی تربیت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
ٹلہ جوگیاں کو سکھ تاریخ میں بھی ایک خاص مقام حاصل ہے۔ روایات کے مطابق سکھ مت کے بانی گرو نانک نے یہاں قیام کیا اور جوگیوں سے مکالمہ کیا۔ یہ مکالمے اس خطے کی فکری تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور مختلف مذاہب کے مابین برداشت اور مکالمے کی روایت کو ظاہر کرتے ہیں، جو اسلامی تعلیمات میں بھی نہایت اہم اصول سمجھا جاتا ہے۔
پنجابی صوفی روایت میں ٹلہ جوگیاں ایک علامت بن چکا ہے۔ عظیم صوفی شاعر بلھے شاہ نے اپنی شاعری میں ٹلہ جوگیاں کو دنیا سے بے نیازی، نفس کشی اور حق کی تلاش کے استعارے کے طور پر استعمال کیا۔ اگرچہ بلھے شاہ کی شاعری میں صوفیانہ اسلوب نمایاں ہے، تاہم اس کا فکری سرچشمہ اسلامی تعلیمات، عشقِ الٰہی اور معرفتِ نفس سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ وہی تصور ہے جو قرآن و سنت میں اخلاص، تقویٰ اور عاجزی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
مغلیہ دور میں بھی ٹلہ جوگیاں کی اہمیت برقرار رہی۔ تاریخی شواہد کے مطابق مختلف ادوار میں یہاں موجود عمارتوں کی مرمت اور توسیع کی جاتی رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقام طویل عرصے تک روحانی اور فکری سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد یہ تاریخی ورثہ مناسب توجہ اور دیکھ بھال سے محروم رہا۔ موسمی اثرات، انسانی غفلت اور سرکاری عدم دلچسپی نے اس عظیم مقام کو آہستہ آہستہ زوال کی طرف دھکیل دیا۔
قدرتی حسن کے اعتبار سے ٹلہ جوگیاں اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں سے وادیٔ جہلم اور دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے دکھائی دیتے ہیں۔ خاموشی، ٹھنڈی ہوا اور قدرتی مناظر انسان کو اللہ کی قدرت اور عظمت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی احساس اسلامی فکر میں تفکر فی الخلق کہلاتا ہے، جو ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ بنتا ہے۔
آج ٹلہ جوگیاں ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اگر بروقت تحفظ، سائنسی بنیادوں پر بحالی اور مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ یہ عظیم تاریخی و روحانی ورثہ مزید زوال کا شکار ہو جائے گا۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور مقامی آبادی اس بات پر متفق ہیں کہ ٹلہ جوگیاں کو قومی ثقافتی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا جائے اور اسے ایسی ذمہ دار سیاحت سے جوڑا جائے جو اس مقام کے تقدس اور تاریخی وقار کو برقرار رکھے۔
ٹلہ جوگیاں آج بھی خاموش ہے،
مگر اس خاموشی میں ایک گہرا سوال پوشیدہ ہے:
کیا ہم اپنی تاریخ اور روحانی ورثے کو محض کتابوں تک محدود رکھیں گے،
یا اسے اسلامی شعور اور قومی ذمہ داری کے تحت آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بھی بنائیں گے؟
تحریر: عبدالرحمن قادری
