ڈیموکریٹ ارکان کا کہنا ہے کہ اگر سابق صدر کو اپنے کیے کی سزا نہ دی گئی تو وہ دوبارہ بھی لوگوں کو تشدد پر اُکسا سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اس ہفتے امریکی سینیٹ میں جاری ٹرائل میں میمبران نے سابق صدر کو چھ جنوری کے پرتشدد واقعات کا ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کی۔
اس سلسلے میں ڈیموکریٹک ارکان نے سی سی ٹی وی کی فوٹیج اور دیگر شواہد پیش کیے جن سے واضح ہو کہ کانگریس کی عمارت پر چڑھائی کرنے والوں کو صدر ٹرمپ نے اُکسایا تھا۔
اپنے کیس کے حق میں ڈیموکریٹک ارکان نے ہنگامہ آرائی کے عینی شاہدین کی گواہیاں بھی پیش کیں جن میں پولیس، انٹیلیجنس افسران، سرکاری ملازمین اور عالمی میڈیا کا موقف شامل تھا۔
USA | Impeachment-Prozess gegen Trump | Diana DeGette
استغاثہ نے سابق صدر کے خلاف اپنے دلائل جمعرات کو مکمل کر لیے۔ جمعے کو ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم ان کے دفاع میں اپنا کیس پیش کرنے جا رہی ہے۔
موضوعات
امریکا
امریکی انتخابات 2020: خصوصی رپورٹس، تجزیے اور تبصرے
اشتہار
سابق صدر کے وکلا اور حمایتیوں کا موقف ہے کہ نئی حکومت کی طرف سے ٹرمپ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔
چُھپ کر جانیں بچانی پڑیں
ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے نومبر کے صدارتی الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اور دھاندلی کے غلط الزام لگائے۔ انہوں نے اپنے بیانات اور تقاریر میں اپنے حمایتیوں کو اشتعال دلایا، جس کے نتیجے میں چھ جنوری کو مسلح مظاہرین نے امریکی کانگریس کی عمارت پر
اس دن امریکی نائب صدر مائیک پینس اور اسپیکر نینسی پلوسی سمیت کئی اراکین سینیٹ اور ان کا اسٹاف اپنی جانیں بچانے کے لیے عمارت کے مختلف کمروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ ان ہنگاموں میں کم از کم پانچ لوگ ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔
دوسری بار ٹرائل
امریکی ایوان نمائندگان پچھلے ماہ صدر ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے ہی ان کا مواخذہ کر چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ وہ واحد امریکی صدر ہیں جن کا کانگریس نے چار سال میں دو بار مواخذہ کیا۔
USA Ohio US-Präsident Donald Trump
ایوان نمائندگان نے دو سال پہلے بھی ان کا مواخذہ کیا تاہم سینیٹ میں ریپبلکن اکثریت نے انہیں قصوروار ٹھہرانے سے انکار کیا تھا۔ اس بار بھی غالب امکان ہے کے سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے پاس دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے وہ سزا سے بچ جائیں گے۔
