وینزویلا میں اقتدار کا مستقبل: ٹرمپ کے اپوزیشن لیڈر ماچاڈو کی صلاحیت پر شکوک و شبہات، رابطہ نہ کرنے کا اعلان
یاد رہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر کارروائی کی، جس کے دوران امریکی ڈیلٹا فورس نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے حراست میں لے لیا۔
نیو یارک(نمائندہ نائلہ جعفری) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی سیاست میں اہم تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کی اپوزیشن قیادت سے رابطہ نہ کرنے کا عندیہ بھی سامنے آیا ہے۔امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر کارروائی کی، جس کے دوران امریکی ڈیلٹا فورس نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ایک تفصیلی پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا میں غیر معمولی آپریشن کیا، جس میں متعدد طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی کی خفیہ منصوبہ بندی دسمبر کے اوائل میں شروع کی گئی تھی اور امریکا آئندہ مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کا انتظام امریکا سنبھالے گا اور امریکی تیل کمپنیاں ملک میں کام شروع کریں گی۔پریس کانفرنس کے دوران یہ بات بھی نمایاں رہی کہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کا ذکر خود سے نہیں کیا، بلکہ صرف ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ان کا نام لیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
