معاشرے کی براٸیاں
تحریر۔۔۔۔بشریٰ جبیں جرنلسٹ
کالم نگار تجزیہ کار
ویسے تو معاشرے کی بہت سی برائیوں پہ میں نے قلم اٹھانے کی کوشش کی ہے جیسے خودکشی کا رجحان ، ہماری زندگی میں سوشل میڈیا کے برے اثرات، بےحیائ، بے روزگاری وغیرہ، لیکن اب میں آپ سب کو معاشرے کی ایسی برائ کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں جو ہر انسان میں ہوتی ہے اور انسان روانی میں اسے کرتا چلا جاتا ہے لیکن اسے پتا نہیں چلتا وہ کیا کررہا ہے جیسے غیبت جھوٹ،ناشکری، بدگمانی،حسد یہ سب برائیاں یا گناہ کہہ لیں ہمارے اندر ہمیشہ سے ہی موجود ہیں لیکن ہمیں اس کی آگاہی نہیں۔۔۔۔
جاہلوں سے درگزر کرنا اور احسان کرنا نیکی ہے۔ ہر نیکی ثواب کا کام ہے ۔ احسان کرنے اور منصفانہ برتاؤ سے برائیاں دور ہوتی ہیں اور نیکی کے عمل سے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس لئے عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے۔ نیکی، بدی کو دھو دیتی ہے ۔ بھلائی کرنا ایک ایسی صفت ہے جو ہر نیکی کو محیط ہے اور یہ بہت سی برائیوں کا علاج ہے۔
وہ برائی کی طرف مائل ہوتا ہے جس سے معاشرہ تباہ ہوتا ہے اور انسانی افراد و اجتماع کو روحانی اور مادی نقصان پہنچتا ہے بلکہ یہ برائیاں جب کسی قوم میں عام ہوجاتی ہیں تو قوم و ملک کی ہلاکت و بربادی کا سبب بنتی ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لئے قرآن نے جابجا معاشرتی برائیوں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے اور ساتھ ہی اس کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پا جاؤ۔‘‘ (النحل:۹۰)
اس آیت کریمہ میں معاشرتی برائیوں کو تین بڑے عنوانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو یہ ہیں:(۱) فحشاء یعنی بے حیائی کے کام (۲) منکرات جس سے پوری جماعت کی زندگی متاثر ہو اور (۳) باغی یعنی سرکشی ، جیسے چوری ، قتل ، ڈاکہ اور ملک و قوم سے غداری کے کام۔
یہ وہ اخلاقی برائیاں ہیں جن کو ہر مذہب اور ہر انسانی معاشرت نے یکساں طور پر برا کہا ہے ۔ وہ درحقیقت برائی اور بے حیائی کے کام ہیں اور دین و شرافت کی نگاہ میں وہ سب برائیاں گناہ اور ناپسندیدہ باتیں ہیں۔ اگر ان کو جائز قرار دے دیا جائے تو افراد کے باہمی حقوق سے امان اٹھ جائے اور کسی کی جان و مال اور عزت و آبرو سلامت نہ رہے۔قرآن نے اس ضمن میں اخلاق کا معتدل نظام پیش کیا ، وہ اخلاق جو اللہ کو پسند ہیں اور جن کو اللہ پسند کرتا ہے
حرص و طمع، بے حیائی ، فضول خرچی، جھوٹ، رشوت، قماربازی، ناپ تول میں کمی، بدی، غیبت۔ یہ وہ معاشرتی برائیاں ہیں جن کو قرآن نے فحشاء اور منکرات سے تعبیر کیا ہے۔ قرآن مجید نے ان معاشرتی برائیوں کا جو علاج تجویز کیا وہ یہ ہے کہ : ’’بے شک نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد بڑی چیز ہے۔‘‘
نہ ہی کسی سے جھوٹ بولیں کہ یہ بھی کبیرہ گناہ میں سے ہے۔رسول اللہ نے فرمایا: “جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے رحمت کا فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے”یعنی ہم اپنے فائدے کی خاطر نہ حلال دیکھتے ہیں نہ حرام دیکھتے ہیں اور وہ سب کچھ کر جاتے ہیں جو ہمیں جہنم کے گڑھے میں دکھیل دیتے ہیں۔یہ سب کیوں ہے؟ اس کا سبب شاید ہمارے اندر خوف خدا و ایمان کی کمی ہے یا ان عادات کی پختگی ہے جو ہمارے اندر رس بس گئی ہیں ۔آئیں اپنے رب سے اپنے لٸے ہدایت مانگیں قرآن پاک کی تلاوت کریں اس کی تفسیر کو سمجھیں اور اس پر عمل کی توفیق مانگیں اللہ پاک سے توبہ استغفار کریں اللہ تعالی ہمارے اعمال کی درستگی فرماۓ آمین۔۔۔
