وقتِ آذان ھے میرے ملک میں۔۔۔۔!!
گزشتہ ماہ سے جاری ابر رحمت چھائی ھوئی ھے اور مزید یہ رحمت آنے والی ھے۔ میرے ملک کے حکمران سیاستدان اور رہنما دستِ گریباں میں مصروف ہیں اپنی ناہلیوں کوتاہیوں کے سبب عوام کو جینے کی راہ میں رکاوٹیں پھیلاتے چلے آرھے ہیں۔ سالانہ ٹیکس ھوں یا روزانہ بڑھتی مہنگائی انہیں محسوس کہاں۔ اب جبکہ ان کی مسلسل عدم توجہ کے باعٹ فرسودہ و ناکارہ نظام کی وجہ سے ملک کے طول و عرض میں بربادی تباھی نے آ دبوچا تو نعوذباللہ قدرت کو الزام ٹہرادیا۔ انسان و جانوروں مرتے جارھے ہیں۔ کھیت کھلیان دریا بن گئے ہیں بستی بستی زیر آب ھوگئیں ہیں۔ راہ داریاں ٹوٹ چکی ہیں ایسے میں ٹیکس پر ٹیکس بڑھائے جارھے ہیں۔ یہ حکمران ہیں یا قصائی۔ یہ جانور تو جانور انسانوں کو بھی زبح کررھے ہیں لعنت ایسی جمہوریت پر لعنت ایسے نظام پر جہاں انسانیت نہیں وحشیت پنپتی ھو۔ افسوس اور لعنت ھو میڈیا انڈسٹری کے تمام چینلز پر کہ ایسے حالات میں سیاسی دنگا سجارھے ہیں ہونا تو یہ چاہئے کہ متاثرین کیلئے خصوصی ٹرانسمیشن جاری رکھیں۔ توبہ و استغفار کی محفلیں سجائی کہ اللہ ابر رحمت کو رحمت میں ہی رھنے دے اور زحمت کردہ عوامل کو غیبی طاقت سے ختم کردے۔ مدارس میں بھی استغفار کے اجتماعات منعقد کئے جائیں اور مساجد سے آذانیں بلند کی جائیں تاکہ اللہ تبارک تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی ختم ھوسکے۔ ایسے حالات میں ہر پاکستانی اپنا دینی اور اخلاقی موثر کردار ادا تو یقیناً پاکستان بڑی آفت سے محفوظ ھوسکتا ھے۔ ھم سب کو بیدار ھوکر اپنا اپنا خود محاسبہ کرنا ھوگا کہ ھمارے وہ کون سے اعمال ہیں جن سے اللہ تبارک تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہورھے ہیں۔۔۔
جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی
