BBC Urdu TV

وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کا سالانہ 600 ارب روپے وصولی کا پلان مسترد کردیا

وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کا سالانہ 600 ارب روپے وصولی کا پلان مسترد کردیا۔

نگران وزیراعظم نے پلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاورڈویژن کو واضح اہداف کے ساتھ جامع پلان پیش کرنےکی ہدایت کی۔

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق وفاقی کابینہ نے پاورڈویژن کا سالانہ 600 ارب روپے وصولی کا پلان مسترد کردیا۔نگران وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بجلی نادہندگان کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اجرا اور تجدید نہ کرنےکی سفارش مسترد کردی گئی۔اس کے علاوہ نادہندگان کو بیرون ملک جانے سے روکنے اوربینک اکاؤنٹ نہ کھولنے کی سفارش بھی مسترد کی گئی ہے.اجلاس میں  وفاقی کابینہ نے پاورڈویژن کا سالانہ 600 ارب روپے وصولی کا پلان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن کا پلان آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ذرائع کے مطابق نگران وزیراعظم نے پلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاور ڈویژن کو واضح اہداف کے ساتھ جامع پلان پیش کرنےکی ہدایت کی۔ کابینہ ارکان نے کہا کہ مسلح افواج اور بیوروکریٹس نے پاور سیکٹر سے زیادہ اہمیت کے کام کرنا ہوتے ہیں، پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کا قیام قانونی اور سیاسی مشکلات پیدا کرنے کا مؤجب بنےگا۔کابینہ ارکان نے مزید کہا کہ پاور ڈویژن کی سفارشات مسائل کے حقیقی حل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے.

Exit mobile version