نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (نم) کے 36 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کا پیراپلیجک سنٹر کا مطالعاتی دورہ۔
دورے کا مقصد اس منفرد قومی ادارے کی خدمات اور انتظامی ڈھانچے کا بطور اسٹڈی کیس جائزہ لینا تھا۔
پشاور(نمائندہ فاطمہ جعفر)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (نم) کے 36 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء نے پیراپلیجک سنٹر پشاور کا مطالعاتی دورہ کیا۔دورے کا مقصد اس منفرد قومی ادارے کی خدمات اور انتظامی ڈھانچے کا بطور اسٹڈی کیس جائزہ لینا تھا، جو ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کی چوٹ سے متاثرہ افراد کی بحالی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ شرکاء انسٹیٹیوٹ واپسی پر انفرادی رپورٹ تیار کریں گے، جس کا مقصد قومی اداروں کو خود انحصاری اور استحکام کی طرف گامزن کرنا ہے۔دورے میں کورس کے 15 شرکاء کے علاوہ دو فیکلٹی ممبران بھی شامل تھے۔ اس وفد کی قیادت چیف انسٹرکٹر طارق بختیار نے کی، جبکہ شرکاء کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس، پولیس سروس، سیکرٹریٹ گروپ، فارن سروس، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پی ایم ایس گروپ سے تھا۔ پیراپلیجک سنٹر کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ضیاء الرحمان اور چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس نے وفد کا خیرمقدم کیا اور انہیں سنٹر کے مختلف شعبوں بشمول ارتھاٹکس ورکشاپ، آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر سیکشن، پرائیویٹ و جنرل وارڈز اور کالج آف فزیکل میڈیسن کا دورہ کروایا۔اس موقع پر ڈاکٹر سید محمد الیاس نے وفد کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے سنٹر کی خدمات اور کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ محدود وسائل کے باوجود پیراپلیجک سنٹر پشاور سپائنل کارڈ انجری کے ساتھ ساتھ کلب فٹ، آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر اور پولیو سے متاثرہ افراد کو مفت علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ ڈاکٹر الیاس سید کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایسے حادثات کا شکار ہونے والے 90 فیصد افراد اپنے خاندان کے کفیل مگر معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں، جس کے باعث اس سنٹر کی خدمات غریب عوام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ڈاکٹر الیاس سید نے مزید بتایا کہ سنٹر میں قائم کالج آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن، مختلف ڈگری کورسز اور تحقیقی سرگرمیوں میں بھی فعال ہے اور سنٹر کی توسیعی منصوبہ بندی کے تحت دیگر شہروں میں بھی ایسے ادارے قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے، جس میں حکومت سے مالی معاونت کی ضرورت ہے۔ شرکاء نے پیراپلیجک سنٹر کی بے پناہ خدمات اور خود انحصاری کے تحت اس کے کامیاب انتظام پر ڈاکٹر سید محمد الیاس اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور اس ادارے کو دیگر قومی اداروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال قرار دیا۔
