BBC Urdu TV

نیب نے بی فور یوکیس میں متاثرہ افراد کو رقم واپسی کی تقریب کے انعقاد کی پریس ریلز جاری کی حقیقت یا دھوکہ-

نیب نے بی فور یوکیس میں متاثرہ افراد کو رقم واپسی کی تقریب کے انعقاد کی پریس ریلز جاری کی حقیقت یا دھوکہ-

متاثرہ افراد کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ کون سے متاثرہ افراد کو چیک تقسیم کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق نیب نےبی فار یو کیس میں متاثرین کی حق تلفی کرتے ہوئےسپریم کورٹ اورمتاثرین کونہ صرف گمراہ کیا بلکہ ایک تقریب کاانعقاد کرکے یہ دکھانے کی جھوٹی کوشش کی کہ نیب متاثرین کو ریکوری کرواکر دے رہا ہے جب کہ حقیقتا نیب اور کمپنی مالکان کی ملی بھگت سے سپریم کورٹ اورمتاثرہ عوام گمراہ کیا جارہاہے.طریقہ واردات یہ ہے کہ بی فور یو کیس کے متاثرین کے لیے نیب کی طرف سے21 تاریخ کو ایک پریس ریلیز جاری کی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ 17500 افراد کو ریکوری کےچیک تقسیم کیے گئے ہیں اور اس تقریب کی مختصر ویڈیو بھی چلائی گئی تھی لیکن اس کے ٹھوس شواہد کہیں دکھائی نہیں دیے کہ متاثرہ افرادوں کو چیک کی ادائیگی یا کوئی ایسا ماحول کہ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ بی فور یو کے متاثرہ افراد کی چیک کی تقسیم تقریب ہے اگر یہ چیک کی تقریب ہے تو نیب کا یہ بہت شاندار کام تھا لیکن یہ ایک معمہ بنا ہوا ہے اگر حقیقتا ایسا ہوا ہے تو عام افراد نے نیب کےاس کارنامے کو سراہا بھی ہے کہ ڈوبی کوئی رقم متاثرہ افراد کو دلوائی جا رہی ہے اور بقیہ منجمد اثاثے، پراپرٹی اور جائیداد فروخت کر کے متاثرہ افراد کو ادائگیاں کی جائیں گے متاثرہ افراد کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ کون سے متاثرہافرادکو چیک تقسیم کیے گئے ہیں؟ ہم نے تمام اسباب اختیار کرنے کےباوجود معلومات حاصل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ہماری کوششیں ناکام رہی ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ تقریب کہاں رکھی گئی تھی اور ابھی تک ایک فرد بھی ہمیں نہیں مل سکا کہ جس نے بتایا ہو کہ اس کو رقم کی ادائیگی ہوچکی ہے-جب کہ نیب نے بڑے دعوے کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ 17500 افراد کو 3.7 ارب روپے کی رقم ادا کی جاچکی ہے اور اس سلسلے میں 21 اگست کو ایک تقریب بھی منعقد ہوئی جس کی تصویریں اور خبریں میڈیا پر جاری کی گئیں۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند خبر لگتی ہے، لیکن جب اس معاملے کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔تضادات کی لمبی فہرست ہےسب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی اربوں روپے ہزاروں متاثرین میں تقسیم ہوئے ہیں تو اس کا کوئی ٹھوس ثبوت کیوں سامنے نہیں آیا؟ نہ کسی متاثرہ شخص کی ویڈیو، نہ کوئی چیک کی تصویر، نہ ہی بینک اسٹیٹمنٹ کا اسکرین شاٹ۔ سب کچھ صرف بیانات اور دعوؤں کی حد تک محدود ہے۔پھر ایک اور بڑا تضاد بھی ہے۔ سابق گورنر پنجاب اور بی فار یو کے سابق وکیل لطیف کھوسہ نے اے آر وائے پر سر عام وڈیو بیان میں کہا تھا کہ کمپنی کے 18 بینک اکاؤنٹس میں 9 ارب روپے موجود اور منجمد ہیں۔ بعد ازاں نیب کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ 56 اکاؤنٹس میں صرف 7.3 ارب روپے ہیں اور اس میں سے 3.7 ارب روپے 17500متاثرین کو ادا کر دیے گئے ہیں۔ اور بقایا اثاثے بیچ کر ادا کیے جائیں گے-سوال یہ ہے کہ 18اکاؤنٹس میں 9 ارب رقم موجود تھی تو پھر 56 اکاؤنٹس میں 7.3 ارب کیسے ہوگئے اور بقایا رقم 3.6 ارب اثاثے بیچ کرکیسے ادا کیےجائیں گے؟نو ارب میں سے 1.7 ارب کی رقم کہاں گئ اور مزید 38 اکاؤنٹس کی رقم کہاں ہے؟ اسی طرح 7.3 ارب میں 3.7 ادا کیے تو منجند اثاثوں کی رقم کس گنتی میں شمار کی جائے گی؟یہ تضاد بذاتِ خود نیب کے دعوے پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔متاثرین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ نیب اپنی بدنامی کو دھو سکے اور بی فار یو کے مالکان بھی "سرخرو” ہو جائیں۔ بظاہر دکھایا یہ جا رہا ہے کہ نیب نے رقوم تقسیم کر دیں، مگر حقیقت میں یہ سب بندر بانٹ ہے، جس میں اصل متاثرین کو ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔یہ صورت حال نہ صرف متاثرین کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے بلکہ عدالتِ عظمیٰ کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش بھی محسوس ہوتی ہے۔ اگر عدالت یہ سمجھ لے کہ واقعی رقوم تقسیم ہو گئی ہیں تو متاثرین کی اصل آواز ہمیشہ کے لیے دب جائے گی۔ انصاف کا خون ہوگا اور بددیانتی کو تحفظ مل جائے گا۔اس پس منظر میں متاثرین کا مطالبہ نہایت واضح ہے-رقم کی تقسیم کے اصل شواہد سامنے لائے جائیں۔نیب اپنی فہرست بمعہ ثبوت عدالت میں جمع کرائے۔9 ارب اور 7.3 ارب کے تضاد کی آزادانہ تحقیقات ہوں۔اگر کوئی ملی بھگت یا مک مکا ہوا ہے تو اس کو بے نقاب کیا جائے۔ہر چھوٹے بڑے متاثرہ شخص کو شفاف طریقے سے اس کا حق واپس ملے۔متاثرین نے کہاہے کہ یہ معاملہ صرف چند متاثرین کا نہیں بلکہ پورے عدالتی اور احتسابی نظام کی ساکھ کا ہے۔ اگر نیب اور بی فار یو کیس میں شفافیت نہ آئی تو آنے والے وقت میں عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید کمزور ہو جائے گا۔سپریم کورٹ،وکلاء اور میڈیا پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متاثرین کی آواز کو سنیں، اس کی جانچ کریں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

Exit mobile version