BBC Urdu TV

نوابشاہ(بیورو رپورٹ)دوڑ میں پبلک پارک کا ڈویژنل ٹریسنگ پلان تاحال منظور نہیں ہوسکا

نوابشاہ(بیورو رپورٹ)دوڑ میں پبلک پارک کا ڈویژنل ٹریسنگ پلان تاحال منظور نہیں ہوسکا،ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ سکھرنے دس یوم گزرجانے کے باوجود پلان منظوری کے لئے ہیڈکوآرٹر ارسال نہیں کیا،تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے دوڑ شہر میں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام کے لئے ڈویژنل ٹریسنگ پلان کی منظوری کے سلسلے میں مختلف طریقے استعمال کرکے تاخیر کی جارہی ہے07/05/2025کوڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز ہیڈکوآرٹر لاہور کو لیٹر نمبر No.473-W/Park/Dourکے ساتھ پبلک پارک کا کیس ڈویژنل ٹریسنگ پلان No.LL-136/DOUR/05/SUK ارسال کیا گیا،مگراس پلان پر ٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی دوڑ کے دستخط ہی نہیں کرائے گئے اور نامکمل کیس ارسال کیا گیا،جس پر 29/05/2025کوڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ لاہور کی جانب سے یہ کیس لیٹر نمبرNo.473-W/Right of Access/SUK/2023/P&L کے ہمراہ واپس ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو ارسال کیا گیااور اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر پاکستان ریلویز نوابشاہ کی جانب سے 02/06/2025کو لیٹر نمبرNo.15-G/Land/Public Park/Dourکے ہمراہ ڈویژنل ٹریسنگ پلان ٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو دستخط کے لئے اپنے آفس کے ایک نائب قاصد کے ذریعے ارسال کیا،جس پر ٹاؤن آفیسرنے دستخط کرکے پلان واپس انکے حوالے کردیا، اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر پاکستان ریلویز نوابشاہ مقصود احمد لاڑک نے بتایا کہ انہوں نے پارک کا پلان 03جون کو ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کو ارسال کردیا،بتایا جاتا ہے کہ دس یوم گزرجانے کے باوجود ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھرنے پبلک پارک کا ڈویژنل ٹریسنگ پلان حتمی منظوری کے لئے ڈی جی پراپرٹی اینڈ لینڈ لاہو کو ارسال نہیں کیا ہے جسکی وجہ سے ابھی تک مذکورہ پلان منظور کرکے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو این او سی جاری کرنے کے لئے کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے،بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ریلویز کی جانب سے دو سال قبل بناء کسی چارجز کے این او سی دینے پر رضامندی ظاہر کی،مگر پاکستان ریلویز کی جانب سے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو این او سی نہیں دی گئی، اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر پاکستان ریلویز نوابشاہ مقصود احمد لاڑک نے08/01/2025 کورپورٹ پیش کی کہ پبلک پارک کا علاقہ کمرشل علاقہ میں آنے کے سبب دوڑ کے شہریوں کی بھلائی کے لئے دوسرے مقام پر واقع جگہ پبلک پارک کے لئے دی جارہی ہے،پاکستان ریلویزسکھر کی جانب سے دوڑ شہر میں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام کے لئے ٹاؤن کمیٹی دوڑ سے لیز چارجز طلب کئے جارہے ہیں جبکہ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے 17/07/2023کوبھریا روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب پارک کے لئے این اوسی بغیر کسی لیز چارجز کے دی گئی جبکہ دونوں ریلوے اسٹیشن پر صورتحال یکساں ہے، دوڑ ریلوے اسٹیشن کے نزدیک 1973 میں قائم کردہ شاہ لطیف پارک پہلے سے موجود ہے،جسکی وقت بہ وقت دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب یہ پارک تباہ حالی کا شکار ہوگیا،جسکی دیکھ بھال کے لئے ریلوے حکام سے رابطہ کیا گیاتو ریلوے حکام نے جواب دیا کہ پارک کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذمے داری ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی ہے،ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی جانب سے 27/02/2023 کو لیٹرNo.TCD/Gen/(Admn)/170 ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویزسکھر کو ارسال کیا گیا جس میں اس پارک کی تعمیر و مرمت کے لئے بغیر کسی چارجز کے این او سی دینے کے لئے کہا گیا،جبکہ 04/07/2023کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ضلع شہید بینظیر آباد کی جانب سے بھی ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو لیٹر ارسال کیا گیا گیا مگر دو سال گزرجانے کے باوجود عوامی مفاد اور ماحول کی بہتری کے اس منصوبہ کی این اوسی نہیں دی گئی،بتایا جاتا ہے کہ ریلوے حکام کی جانب سے شاہ لطیف پارک کے مقام کو کمرشل ایریا میں آنے کے سبب ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو اس سے دستبردار ہونے اور دیگر مقام پر پبلک پارک کے لئے ریلوے اراضی ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو دینے پر رضامندی ظاہر کی،اور ریلوے اسٹیشن کے نزدیک چھ ایکڑپر مشتمل اراضی پبلک پارک کے لئے مختص کی گئی،پارک کی اراضی کے عوض پارک کے لئے اراضی دی جارہی ہے،دوڑ کے شہریوں نے بتایا کہ یہ ایک فلاحی اور ماحول دوست منصوبہ ہے،جسکی این اوسی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،دوڑ کے شہریوں محمد عرفان آرائیں،ریاض احمد کمبوہ،سجاد سرور،آصف فرحان خانزادہ،راجہ ڈیتھو اور دیگر نے مطالبہ کیا کہ جلد از جلدپارک کے پلان کو منظور کرکے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو این او سی دی جائے

Exit mobile version