نوابشاہ(بیورورپورٹ)کمشنر پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے سیکریٹری ریلویز کو نوٹس ارسال،ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو پبلک پارک کے قیام کے لئے این او سی نہ دینے پر سیکریٹری ریلویز کو متعلقہ ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق کمشنر پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو پبلک پارک کے قیام کے لئے این او سی جاری نہ کرنے پرسیکریٹری ریلویز اسلام آباد کو متعلقہ ریکارڈ سمیت 19 جون کو طلب کرلیا ہے،سماجی رہنما انور عادل خانزادہ کی شکایت پر ارسال کردہ نوٹس میں سیکریٹری ریلویز کو پابند کیا گیا ہے کہ 19 جون کوسیکریٹری ریلویز خود پیش ہوں یا اپنے نمائندے کو بھیجیں،سماجی رہنما انور عادل خانزادہ نے بتایا کہ ٹاؤن کمیٹی دوڑ پاکستان ریلویز اور عوامی مفاداور حکومت پاکستان کی کلین اینڈ گرین پالیسی کے مطابق پبلک پارک قائم کرنا چاہتی ہے،مگر ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو پبلک پارک کے قیام اور دیکھ بھال کے لئے این او سی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز ہیڈکوآرٹر لاہور کو 07/05/2025 کو تمام کاروائی مکمل کرکے ڈویژنل ٹریسنگ پلان برائے این او سی نمبرLL-136/DOUR/05/SUK ارسال کیاگیا،جسے ابھی تک منظور کرکے این او سی جاری نہیں کی گئی ہے،انہوں نے بتایا کہ دو سال سے پاکستان ریلویز کی جانب سے این او سی کے اجراء کے سلسلے میں مختلف بہنانے بناکر تاخیر کی جارہی ہے،اس مقام پر پبلک پارک کا قیام پاکستان ریلویز اور عوام کے مفاد میں ہے،پبلک پارک کے قیام سے نہ صرف ماحول میں بہتری اور خوبصوتی پیدا ہوگی،بلکہ ریلوے اراضی غیرقانی قبضے سے بھی محفوظ رہے گی،اس مقام پر اس وقت گندگی اور گندے پانی کا تالاب بنا ہوا ہے،برسات میں یہ علاقہ مکمل پانی میں ڈوب جاتا ہے،جسکے سبب ریلوے ٹریک بھی زیر آب آجاتا ہے،جسکی وجہ سے ریلوے ٹریک کو نقصان ہوتا ہے۔پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے دوڑ شہر میں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام کے لئے ٹاؤن کمیٹی دوڑ سے لیز چارجز طلب کئے گئے جبکہ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے بھریا روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب پارک کے لئے این اوسی بغیر کسی لیز چارجز کے دی گئی جبکہ دونوں ریلوے اسٹیشن پر صورتحال یکساں ہے، دوڑ ریلوے اسٹیشن کے نزدیک 1973 میں قائم کردہ شاہ لطیف پارک پہلے سے موجود ہے،جسکی وقت بہ وقت دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب یہ پارک تباہ حالی کا شکار ہوگیا،جسکی دیکھ بھال کے لئے ریلوے حکام سے رابطہ کیا گیاتو ریلوے حکام نے جواب دیا کہ پارک کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذے داری ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی ہے،جس پر ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی جانب سے 27/02/2023 کوایک لیٹر نمبرNo.TCD/Gen/(Admn)/170ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو ارسال کیا گیا جس میں اس پارک کی تعمیر و مرمت کے لئے بغیر کسی چارجز کے این او سی دینے کے لئے کہا گیا،جبکہ 04/07/2023کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ضلع شہید بینظیر آباد کی جانب سے بھی ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو لیٹر ارسال کیا گیامگر دو سال گزرجانے کے باوجود عوامی مفاد اور ماحول کی بہتری کے اس منصوبہ کی این اوسی نہیں دی گئی ریلوے حکام کی جانب سے شاہ لطیف پارک کے مقام کو کمرشل ایریا میں آنے کے سبب ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو اس سے دستبردار ہونے اور دیگر مقام پر پبلک پارک کے لئے ریلوے اراضی ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو دینے پر رضامندی ظاہر کی،اور ریلوے اسٹیشن کے نزدیک چھ ایکڑپر مشتمل اراضی پبلک پارک کے لئے مختص کی گئی۔پارک کی اراضی کے عوض پارک کے لئے اراضی دی جارہی ہے،جسکے لیز چارجزوصول کرنا سراسر ایک غلط عمل ہے،اور یہ ایک فلاحی اور ماحول دوست منصوبہ ہے،جسکی این اوسی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،جسکے سبب شہری تفریح سہولت سے محروم ہیں،سماجی رہنما انور عادل خانزادہ نے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو بناء کسی چارجز کے این او سی دی جائے
نوابشاہ(بیورورپورٹ)کمشنر پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے سیکریٹری ریلویز کو نوٹس ارسال
