نوابشاہ(بیورورپورٹ)پاکستان ریلویز کی جانب سے دوڑ میں پبلک پارک کے قیام کے لئے این او سی دینے میں تاخیر،سماجی رہنما انور عادل خانزادہ کی جانب سے پاکستان انفارمیشن کمیشن کو سیکریٹری ریلویز کے خلاف زیرسماعت کیس کا جواب ارسال،تفصیلات کے مطابق ویلفیئر کمیٹی دوڑ کے رہنما انور عادل خانزادہ کی جانب سے پاکستان ریلویز کی جانب سے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو پبلک پارک کے قیام کے لئے این او سی دینے میں تاخیر کی تفصیلی معلومات فراہم نہ کرنے کے خلاف سیکریٹری منسٹری آف ریلویز اسلام آباد کے خلاف پاکستان انفارمیشن کمیشن اسلام آباد میں کیس دائر کیا گیا تھا،جس پر 05 اگست کو کمشنر پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے ہیرنگ منعقد کی گئی ہے،اور سماجی رہنما انور عادل خانزادہ سے تفصیلی جواب طلب کیا گیا ہے،جوکہ انکی جانب سے ارسال کردیا گیا ہے،ارسال کردہ جوابی لیٹر میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ سیکریٹری منسٹری آف ریلویز کی جانب سےRight of Access to Information Act, 2017کے تحت ریلوے اراضی پر عوامی مفاد میں پبلک پارک کے قیام / دیکھ بھال کے لیے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو ابھی تک این او سی نہ دینے کی طلب کردہ مکمل تحریری تفصیلات فراہم نہیں کی جارہی ہیں،بلکہ مختلف طریقے استعمال کردہ تاخیر کی جارہی ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز لاہور کی جانب سے ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو لیٹر نمبر No.473-W/RIGHT OF ACCASS/SUK/P&L/2023کے ساتھ پبلک پارک کا ڈویژنل ٹریسنگ پلان No.LL-136/DOUR/05/SUKمنظور کرکے 18/06/2025کو ہیڈ کوآرٹر پلان نمبر No.377-LICND:L/2025/SUK ارسال کیا گیا، جس میں 119680 اسکوائر فٹ اراضی کی50% of DC valueکے 3164,869/-روپے اور Ground rent @5/- per sft/annum for 05 5 yearکے 2,992,000/-روپے ٹوٹل رقم 6,156,869/-کی رقم بنائی گئی ہے،جوکہ سراسر غلط ہے سابقہ پارک کی اراضی کے عوض دوسرے مقام پر اراضی دی گئی ہے،اسکے لینڈ لیز چارجز طلب کرنا غیرقانونی عمل ہے،مذکورہ مقام پر پبلک پارک کا قیام پاکستان ریلویز اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے،پبلک پارک کے قیام سے نہ صرف ماحول میں بہتری اور خوبصوتی پیدا ہوگی،بلکہ ریلوے اراضی غیرقانی قبضے سے بھی محفوظ رہے گی،اس مقام پر اس وقت گندگی اور گندے پانی کا تالاب بنا ہوا ہے،برسات میں یہ علاقہ مکمل پانی میں ڈوب جاتا ہے،جسکے سبب ریلوے ٹریک بھی زیر آب آجاتا ہے،جسکی وجہ سے ریلوے ٹریک کو نقصان ہوتا ہے،چیئرمین ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی جانب سے ریلوے ٹریک اور ریلوے اسٹیشن کو محفوظ بنانے کے لئے لاکھوں روپے کی مٹی ڈال کر بند بنائے گئے ہیں تاکہ برساتی پانی سے ریلوے ٹریک اور ریلوے اسٹیشن محفوظ رہے،جبکہ ریلوے اسٹیشن پر پینے کے پانی کا فلٹر پلانٹ،مسافروں کے بیٹھنے کے لئے بینچیں،پلیٹ فارم پر روشنی کے لئے لائیٹس،اور درجنوں درخت لگوائے گئے ہیں،سندہ بھر میں دوڑ ریلوے اسٹیشن وہ واحد اسٹیشن ہے جہاں پر ٹاؤن کمیٹی کی جانب سے ویلفیئر کے کام کرائے گئے ہیں،یہاں کے لوگ پاکستان ریلوے سے محبت کرنے والے لوگ ہیں،مگر اس کے باوجود پبلک پارک کے قیام کے لئے این او سی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،۔ دوڑ شہر کے ایک شہری نے پاکستان ریلویز کی جانب سے پبلک پارک کے قیام اور دیکھ بھال کے لئے پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سیاین او سی نہ دینے کے خلاف وفاقی محتسب کو شکایت ارسال کی،جہاں پر ریلوے کے نمائندے نے بناء کسی چارجز کے این او سی دینے پر رضامندی ظاہر کی،مگر پاکستان ریلویز کی جانب سے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو این او سی نہیں دی گئی،،جس پر مذکورہ شہری نے ایک بار پھر وفاقی محتسب سے رجوع کیا جہاں پر اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر پاکستان ریلویز نوابشاہ مقصود احمد لاڑک نے08/01/2025 کورپورٹ پیش کی کہ پبلک پارک کا علاقہ کمرشل علاقہ میں آنے کے سبب دوڑ کے شہریوں کی بھلائی کے لئے دوسرے مقام پر واقع جگہ پبلک پارک کے لئے دی جارہی ہے،مگر اس کے باوجود اٹاؤن کمیٹی دوڑ سے لینڈ لیز چارجز اور گراؤنڈ رینٹ طلب کی جارہی ہے۔یہ ایک ماحول کی بہتری اور عوامی بہبود کا منصوبہ ہے۔،جسکے لئے 6156869روپے کی خطیر رقم طلب کی جارہی ہے،جبکہ پبلک پارک کے قیام اور دیکھ بھال کے لئے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو کروڑوں روپے کے اخراجات کرنے ہونگے،ایک جانب ٹاؤن کمیٹی د3 کوبھریا روڈ ریلوے اسٹیشن کے نزدیک پارک کے قیام کے لئے این او سی بغیر کسی لینڈلیز چارجز اور گراؤنڈ رینٹ کے دی گئی، جبکہ دونوں مقام پر صورتحال یکساں ہے،مگر این او سی دینے کے عمل میں تفریق کی جارہی ہے،سماجی رہنما انور عادل خانزادہ نے اپنے جوابی لیٹر میں مذید موقف اختیار کیا ہے کہ دوڑ ریلوے اسٹیشن کے نزدیک 1973 میں قائم کردہ شاہ لطیف پارک پہلے سے موجود ہے،جسکی وقت بہ وقت دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب یہ پارک تباہ حالی کا شکار ہوگیا،جسکی دیکھ بھال کے لئے ریلوے حکام سے رابطہ کیا گیاتو ریلوے حکام نے جواب دیا کہ پارک کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذمے داری ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی ہے، ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی جانب سے 27/02/2023 کوایک لیٹر ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو ارسال کیا گیا جس میں اس پارک کی تعمیر و مرمت کے لئے بغیر کسی چارجز کے این او سی دینے کے لئے کہا گیا،جبکہ 04/07/2023کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرضلع شہید بینظیر آباد کی جانب سے بھی ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو لیٹر ارسال کیا گیا مگر دو سال گزرجانے کے باوجود عوامی مفاد اور ماحول کی بہتری کے اس منصوبہ کی این اوسی نہیں دی گئی،ریلوے حکام کی جناب سے شاہ لطیف پارک کے مقام کے کمرشل علاقے میں آنے کے سبب ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو اس سے دستبردار ہونے اور دیگر مقام پر پبلک پارک کے لئے ریلوے اراضی ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو دینے پر رضامندی ظاہر کی،اور ریلوے اسٹیشن کے نزدیک چھ ایکڑپر مشتمل اراضی پبلک پارک کے لئے مختص کی گئی،پارک کی اراضی کے عوض پارک کے لئے اراضی دی گئی،مگر بعد ازاں اس چھ ایکڑاراضی کے ڈویژنل ٹریسنگ پلان پر اعتراضات عائد کرکے پونے تین ایکڑ کا دوسرا ڈویژنل ٹریسنگ پلان بنایا گیا،جسکے لیز چارجزوصول کرنا سراسر ایک غلط عمل ہے،دوڑ ریلوے اسٹیشن کے اطراف اراضی پر تیزی سے قبضے کرکے پختہ مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں،اور آئندہ چند ماہ میں مکمل اراضی پر قبضے ہوجائیں گے،پبلک پارک کے قیام سے یہ اراضی نہ صرف مذیدقبضے سے محفوظ رہے گی،بلکہ عوامی بھلائی کے اس منصوبے سے ماحول میں بھی بہتری آئے گی،اور یہ ایک فلاحی اور ماحول دوست پاکستان ریلویز کی پالیسی کے مطابق عوامی بھلائی کا منصوبہ ہے،جسکی این او سی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،مگر اسکے باوجودٹاؤن کمیٹی دوڑ نے پاکستان ریلویز اور عوام کے مفاد اور ماحول کی بہتری کے لئے چار اقساط میں لینڈ لیز چارجز ادا کرنے کے سلسلے میں رضامندی ظاہر کرتے ہوئے 18/07/2025کو ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کو لیٹر ارسال کیا،مگر اس لیٹر پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔سماجی رہنما انور عادل خانزادہ نے مذید موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے سیکریٹری ریلویز اسلام آباد،چیف ایگزیکٹو آفیسر/سینئر جنرل منیجر پاکستان ریلویز ہیڈکوآرٹر لاہور،ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز ہیڈکوآرٹر لاہور،اسٹنٹ ڈائریکٹر W-II/منسٹری آف ریلویز اسلام آباداور ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ فار ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز لاہور کو لیٹر ارسال کئے جن کی کاپی دیگر ریلوے حکام کو بھی ارسال کی گئی،مگر کوئی کاروائی نہیں کی گئی،انہوں نے سیکریٹری ریلویز منسٹری آف ریلویز سےRight of Access to Information Act, 2017کے تحت ریلوے اراضی پر عوامی مفاد میں پبلک پارک کے قیام / دیکھ بھال کے لیے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو ابھی تک این او سی نہ دینے کی تحریری تفصیلات طلب کی جوکہ انکی جانب سے ابھی تک مکمل طور پرفراہم نہیں کی گئی ہیں اورپاکستان ریلویز کی جانب سے گذشتہ دو سال سے عوامی بھلائی،ماحول کی بہتری اور ریلویز کے مفادکے حامل اس منصوبے کی این او سی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،اور اس سلسلے میں مکمل تحریری تفصیلات اور معلومات بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں،سماجی رہنما انور عادل خانزادہ نے کمشنر پاکستان انفارمیشن کمیشن اسلام آباد سے استدعا کی کہ عوامی مفاد میں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام / دیکھ بھال کے لیے ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو ابھی تک این او سی نہ دینے کی مکمل تحریری تفصیلات کی فراہمی کے لئے کاروائی کی جائے،
نوابشاہ(بیورورپورٹ)پاکستان ریلویز کی جانب سے دوڑ میں پبلک پارک کے قیام کے لئے این او سی
