نماز کی ادائیگی اور مال کا خرچ کرنا جب اللہ کی رضا کے لیے ہو اللہ کریم اپنی شان کریمی کے مطابق اس کا اجر عطا فرماتے ہیں۔ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اعمال کتنے اسوہ حسنہ کے مطابق ہیں۔صالح اعمال اختیار کرنے سے حفاظت الہیہ نصیب ہوتی ہے اور بندہ گناہوں سے بچنے کی پوری سعی کرتا ہے۔اگر بشری تقاضے کی وجہ سے خطا ہو جائے تو فورا توبہ کی توفیق نصیب ہو جاتی ہے۔اس راہ کے مسافر جو گزر گیا اس پر افسوس نہ کریں گے اور آنے والے وقت پر غمگین بھی نہ ہوں گے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
انہوں نے کہا کہ عدل پر قائم رہنے کا واحد راستہ اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔اسوہ حسنہ ہمارے لیے بہترین نمونہ حیات ہے
ذات سے لے کر اہل و عیال اور اجتماعی ہر پہلو میں دین اسلام ہماری ضرورت ہے۔بندہ مومن کی زندگی کا ہر عمل اگر اللہ کے حکم کے مطابق ہو تو عبادت شمار ہو گا۔جب بندہ سراپا اطاعت بن جائے تو پوری زندگی عبادت شمار ہوتی ہے۔
ذکر اللہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذکر الہی ایسا نسخہ ہے جو دعا بھی اور دوا بھی۔ہر روحانی مرض کا علاج ہے۔مرض جتنا بھی بگڑ چکا ہو اس کا علاج ذکر الہی ہے۔قلب کی صفائی کا ذریعہ ہے۔اللہ کریم کا ذاتی نام ہی اسم اعظم ہے۔یہ مبارک نام لینا نصیب ہو جائے طلب نصیب ہو جائے یہ ایسی تسبیح ہے جس سے بندہ اللہ کے روبرہ ہو جاتا ہے۔بلندی اور عظمت یہ کہ بندہ اپنے مالک کی چاہت میں ڈھل جائے۔ذکر سے اپنی ذات کی نفی ہوتی ہے اور بندہ ذات باری تعالی تک پہنچ جاتا ہے۔
یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے جس میں ملک و بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ شریک ہیں اور حضرت جی مد ظلہ العالی روزانہ دن ساڑھے گیارہ بجے خصوصی خطاب فرماتے ہیں
اس کے علاوہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں سالکین ایک باقاعدہ نظام کے تحت اپنے شب وروز بسر کر ہے ہیں۔
نماز کی ادائیگی اور مال کا خرچ کرنا جب اللہ کی رضا کے لیے ہو اللہ کریم اپنی شان کریمی کے مطابق
