نسیم میمن کے چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی کے عہدے سے بر طرف ہونے کے بعد بورڈ میں موجود ایک کالی بھیڑ حارث فاروقی المعروف فرعون فاروقی یتیم ہو گیا۔
کراچی : (رپورٹ: اشتیاق سرکی)
حارث فاروقی وہ انسان ہے جس نے ایک کلرک سے اسسٹنٹ سیکرٹری بننے کا سفر جاپان کی سپیڈ سے بھی تیز ترین تے کیا ہوا ہے۔ ان سب ترقیوں کے پیچھے حارث فاروقی کے چاپلوسی اور افسران کو خوش رکھنے کے منفرد اور مخصوص طریقے کار فرما ہیں۔
حارث فاروقی نے گریڈ 18 میں ترقی کے لیے چیئرمین نسیم میمن کو پوری طرح سے قابو میں کیا ہوا تھا۔ جس کی ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نسیم میمن کو حارث فاروقی نے *سہولتیں* فراہم کرنے کے بعد ان کو بلیک میلنگ شروع کر دی تھی۔ اور ان سے اس بات کا تقاضا کیا ہوا تھا کہ اگلی بورڈ میٹنگ میں اگر اس کا گریڈ 18 میں پروموشن نہ کیا گیا تو وہ نسیم میمن کا سارا کچا چٹا منظر عام پر لے آئے گا۔
جس کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ حارث فاروقی جو کہ گریڈ ساتھ میں جونیئر کلرک بڑھتی ہوا تھا دیکھتے ہی دیکھتے گریڈ 18 کے اہم ترین عہدے پر باآسانی تعینات ہو جائے گا۔ جس کی نہ تو بورڈ کے قوانین اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی ضابطے۔
لہذا بورڈ کے چھوٹے ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حارث فاروقی کو گریڈ 18 میں ترقی دی جا رہی ہے تو ہمیں بھی گریڈ ایک اور پانچ سے گریڈ 17 اور 18 میں تعینات کیا جائے بصورت دیگر ہم احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
اس معاملے پر تعلیمی حلقوں اور بورڈ ملازمین شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور انہوں نے نگران وزیراعلی سندھ مقبول باقر اور سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ نور احمد سموں سے مطالبہ کیا ہے کہ کاشف صدیقی کی طرح اور اس فاروقی کی بھرتی سے لے کر حالیہ عہدے تک کی مکمل اور شفاف چھان بین کر کے حارث فاروقی کو بھی واپس جونیئر کلرک کے عہدے پر بھیجا جائے اور اس کو دی گئی تمام تر غیر قانونی اور خلاف ضابطہ ترقیاں فل فور منسوخ کی جائیں۔
