BBC Urdu TV

نبوت کے بعد سب سے بڑا درجہ ریاست کا ہے، ریاست کی حفاظت کیلئے جہاد کا تصور ہے اور افواج

*نبوت کے بعد سب سے بڑا درجہ ریاست کا ہے، ریاست کی حفاظت کیلئے جہاد کا تصور ہے اور افواج پاکستان مجاہدین ہیں۔ مفتی عبدالرحیم*

*افواہیں، پروپیگنڈا اور ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلانا منافقین کا کام ہے۔ مفتی عبدالرحیم*

*ہماری جامعات میں تربیت کا فقدان ہے، ہم اپنے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی نہیں کرتے، صرف انہیں پڑھاتے ہیں۔ چیئر مین سندھ ایچ ای سی*

*پاکستان کی حکومت یا افواج کے خلاف مسلح کاروائیاں یقینا بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں جو شرعاً بالکل حرام ہیں۔ مفتی احمد افنان*

*معاشرے میں امن، سچ، برابری، مساوات اور انصاف کا بول بالا کئے بغیر بچوں کی کردار سازی نہیں ہوسکتی۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعتہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ نبوت کے بعد سب سے بڑا درجہ ریاست کا ہے، ریاست کی حفاظت کیلئے جہاد کا تصور ہے اور افواج پاکستان مجاہدین ہیں۔ پاکستان اس وقت خطرناک صورتحال سے دوچار ہے۔مدارس، اسکول، کالجز اور جامعات کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہئے کہ انہوں نے بچوں کو وہ تربیت نہیں دی جو دینی چاہیئے تھی۔ مدارس اور جامعات مل کر وہ اقدامات کریں جن کی آج ضرورت ہے، ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ فیک نیوز ایک بڑا مسئلہ ہے جب کوئی ریاست مشکلات سے دوچار ہوتی ہے تو ایک غلط خبر پوری ریاست کو متاثر کرتی ہے۔ افواہیں، پروپیگنڈا اور ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلانا منافقین کا کام ہے۔ ہمیں سچ بولنا چاہئے، ہمارے اعمال اور کام اس وقت درست ہوں گے جب ہم سچ بولیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ ایچ ای سی کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان: "ریاست پاکستان۔ پیغام پاکستان: چیلنجز، خطرات، حل اور جامعات کی ذمہ داریاں” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مفتی عبد الرحیم نے پیغام پاکستان کی مذہبی بنیادوں اور انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ کرنے میں اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قوم کیلئے امید کی کرن کا کام اور نوجوانوں کو اعتدال اور تعمیری مکالمے کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک بہت کھٹن مرحلے سے گزر رہا ہے، ہم سب کو اس ملک کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنے اور اپنے اپنے محاذ پر لڑنے کی ضرورت ہے۔بلوچستان میں حالیہ اور خیبر پختونخواہ میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں ہمارا رخ اور ذہن سازی صحیح خطوط پر نہیں ہورہی ہے اور ایسی کیا وجوہات ہیں کہ ہمارے نوجوان ان تمام چیزوں سے متاثر ہوتے ہیں جن کے منفی پہلو ہوتے ہیں۔ ہماری جامعات میں تربیت کا فقدان ہے، ہم اپنے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی نہیں کرتے بلکہ صرف انہیں پڑھاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات طلبہ کو پڑھانے کیساتھ ساتھ انکی تربیت اور ذہن سازی کو یقینی بنائیں۔ مجھے امید ہے کہ آج کے اس سیمینار میں سندھ بھر کی جامعات کے وائس چانسلر کی شرکت سے پیغام پاکستان کے بیانیے کو فروغ اور جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ ڈاکٹر طارق رفیع نے مزید کہا کہ انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہمارے لوگوں، بچوں کی ذہن سازی دشمن کررہا ہے اور انہیں اپنے ملک اور لوگوں کے خلاف کررہا ہے جس کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جامعات سماجی ترقی کی بنیاد ہیں اور مستقبل کے رہنماؤں کی تشکیل میں ان کا اہم اور کلیدی کردار ہے جو اس قومی بیانیے کو آگے بڑھائیں گے۔ غزالی یونیورسٹی میں کلیتہ الشریعہ کے ڈائریکٹر مفتی احمد افنان نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور پاکستان کی حکومت اور افواج دستور پاکستان کے پابند اور اس کے مطابق حلف اُٹھاتے ہیں اس لئے پاکستان کی حکومت یا افواج کے خلاف مسلح کاروائیاں یقینا بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں جو شرعاً بالکل حرام ہیں۔ پاکستان میں جو خودکش حملے کئے جارہے ہیں وہ تین طرح کے شدید گناہوں کا مجموعہ ہیں، ایک خود کشی، دوسرا کسی بے گناہ کو قتل کرنا اور تیسرا مسلمان حکومت کے خلاف بغاوت۔ لہٰذا یہ خود کش حملے کسی بھی تاویل سے جائز نہیں ہوسکتے اور ان کی حمایت کرنا گناہوں کے مجموعہ کی حمایت کرنا ہے۔ سیمینار سے اتحاد المدارس الاسلامیہ کے صدر مفتی محمد یوسف خان اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن علامہ شیخ اصغر حسین شہیدی، سیکرٹری جنرل حیات آئمہ مسجد، مفتی محمد عابد مبارک مدنی، صدر تنظیم المساجد اہلسنت پاکستان، مفتی محمد یحییٰ مجید، جامعۃ الدراسات الاسلامیہ کے شیخ الحدیث، اور الغزالی یونیورسٹی کے پرو چانسلر ڈاکٹر ذیشان احمد نے خطاب کیا اور مذہبی ہم آہنگی کی اہمیت اور امن کے فروغ میں اسلامی تعلیمات کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کس طرح ”پیغام پاکستان” اسلام کی حقیقی روح سے ہم آہنگ ہے، جو امن، رواداری اور تنوع کے احترام کی وکالت کرتا ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں امن، سچ، برابری، مساوات اور انصاف کا بول بالا کئے بغیر بچوں کی کردار سازی نہیں کرسکتے۔ تعلیمی ادارے اور بالخصوص جامعات بچوں کی تربیت اور ذہن سازی میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے جامعات اپنا کردار ادا کریں اور پیغام پاکستان کو جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کے ذریعے ملک کے کونے کونے تک پہنچائیں۔ انہوں نے سندھ بھر کی جامعات سے آئے ہوئے وائس چانسلرز، روئسائے کلیہ جات اور صدور شعبہ جات کا اتنے اہم موضوع پر منعقدہ سیمینار میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ سیمینار ”پیغام پاکستان” اقدام کو مضبوط بنانے اور ایک پرامن اور خوشحال پاکستان کیلئے مل کر کام کرنے کے اجتماعی عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ اقدام صرف ایک پالیسی نہیں ہے بلکہ ایک تحریک ہے جس نے معاشرے کے مختلف طبقات کو امن اور استحکام کے مشترکہ مقصد میں کامیابی کے ساتھ متحد کیا ہے۔

{"fte_image_ids”:[],”remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:[],”source_ids”:{},”source_ids_track”:{},”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”total_editor_actions”:{},”photos_added”:0,”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}
Exit mobile version