میری آواز سن لو اے بہرو غافل لوگو۔۔۔۔!!
کراچی بھر میں پھیلے ھوئے خیراتی ادارو فلاحی تنظیموں تم اس قوم کو بھکاری بنارھے ھو انہیں مجبور لاچار بنا رھے ھو انہیں نکمے اور ناکارہ بنارھے ھو مفت کی روٹی کھلا کھلا کر منفی راہ پر چلا رھے ھو۔ انہیں دودھ پلا پلا کر سانپ بنا رھے ھو اور دھرتی پر بوجھ بنارھے ھو جو لوگ تمہیں امانت اور اعتماد پر اپنی رقم امداد کے طور پر دیتے ہیں انہیں صحیح مصرف کے بجائے غلط راہ پر برباد کرتے ھو۔ چھیپا ایدھی احساس خواجہ غریب نواز ٹرسٹ المصطفےٰ ٹرسٹ بینظیر انکم سپورٹ اور نجانے کتنے فلاحی ادارے حقیقت میں پاکستان اور پاکستانی معاشرے کی تباہی کا باعث بن رھے ھیں حیرت و تعجب ھے کہ یہ آڈٹ سے مبرا ھیں کہیں اسلام اور شریعت میں فلاحی ادارے احتساب اور حساب سے آزاد نہیں۔ دور خلافت ، دور ملوکیت، دور بادشاہت، دور جمہوریت میں بھی بھکاری پن کی سخت ممانعت ھوتی رھی ھے ریاست اور فلاحی ادارے غریب غرباء کو بنا سود قرض دیتے اور انہیں بہتر کاروبار یا روزگار فراہم کرتے ھیں تاکہ ریاست و ملک معاشی طور پر خودکفیل مستحکم اور خوشحال رھے۔ بھیک مافیاء پر ہر ممالک میں سختی برتی جاتی ھے جبکہ خیراتی اداروں کی کی جانب سے حقیقی معزوروں کیلئے شیلٹر ھوم بنائے جاتے ہیں جہاں وہ اپنی آسانی اور سہولت کیساتھ کام بھی کرتے ھیں اور کھاتے پیتے رہتے بھی ہیں لیکن پاکستان میں فلاحی ادارے مافیاء بن چکے ھیں یا پھر ہر جاہل بے شعور شخص فلاحی ادارہ کھولے بیٹھا ھے ان سب کی غلط پالیسیوں کے سبب حقدار اپنے حق سے محروم ھے اور سفید پوش با ضمیر عزت نفس گھرانے معاشی طور پر انتہائی کمزور تر ھوتے جارھے ھیں۔ بے انتہا بیروزگاری اور مہنگائی نے ان سفید پوشوں کا بھرم مٹی میں ملادیا ھے اللہ ان سب فلاحی اداروں کو اپنی گرفت میں ضرور لے گا جنھوں نے بے انصافی سے کام لیا ھے۔ اےآروائی، جیو، ھم، نائنٹی ٹو، جی این این، دنیا اور دیگر چینلز جنھوں نے فلاحی ادارے کھول رکھے ہیں ان سب میڈیا ہاؤس کیلئے ضروری ھے کہ وہ اپنے ملازمین کو بیروزگار نہ کریں اگر بہت سنگین جرم سرزرد ھو تو تحقیق اور چھان بین کے بعد فارغ کریں دوسرا یہ کہ روزگار کے مواقع بڑھائیں اور سالانہ بنیاد پر انکریمنٹس بھی دیا کریں یا مہنگائی الاؤنس دیدیا کریں جبکہ رمضان اور عید الاضحیٰ پر ایک یا دو بونس لازمی دیا کریں۔ دیگر فلاحی ادارے ووکیشنل اور ٹیکنیکل سینٹر قائم کرکے مفت ٹریننگ کیساتھ ساتھ روزگار کیلئے راہیں ہموار کریں۔ ان تمام امور کے بعد ھی لوگوں کی امدادی رقم درست سمت میں استعمال ھوگی۔ مفت اسپتال اور مفت تعلیم گاہ بھی بنائے جانے چاہئیں تاکہ پروفیشنل ڈگریاں قابل ہونہار طالبعلم مفت حاصل کرسکیں اور پھر یہ عملی زندگی میں بہترین انسان بن کر معاشرے اور ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ کراچی کے صحافی جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی کی جیتی جاگتی تعبیر ھے اگر نیک نیتی کیساتھ یہ سب عمل پیرا ھوجائیں تو۔ ہمیشہ گمان اور امید اچھی رکھنی چاہئیے۔۔۔۔!!
