*میرپورخاص ٹریننگ کالج کی حقیقت*
*تحریر: جاوید صدیقی*
یہ بات ھے سنہ انیس سو تہتر کے آخیر اور سنہ انیس سو چوہتر کے اوائل کی، جب میں تیسری جماعت میں تھا اور چوتھی جماعت میں آرھا تھا۔ میرے والد محترم سردار حسین صدیقی مرحوم علیگیرین، سکرنڈ شہر کے نواحی علاقے زرعی کالونی کیساتھ منسلک زرعی و ٹیچرز ٹریننگ کالج کے پرنسپل تھے۔ میرپورخاص میں باقائدہ کوئی ٹیچرز ٹریننگ کالج نہ تھا۔ والد محترم کی کوشش سے ٹیچرز ٹریننگ کالج سکرنڈ شہر سے میرپورخاص شہر منتقل ہوگیا جو ایک مشکل اور چیلنجنگ مرحلہ تھا۔ تمام اسٹاف کی منتقلی اور پھر رہائش کا انتظام کوئی آسان کام نہیں تھا۔ والد محترم علیگیرہن تھے یعنی علیگڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔ آپ ایک ذہین قابل اور بہترین منتظم صلاحیت کے مالک تھے۔ والد محترم محکمہ ایجوکیشن سندھ اور بلخصوص میرپورخاص شہر کی مشہور و معروف شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا اور ھے۔ آپکی دیانتداری، ایمانداری، اصول پسندی اور قوانین کی پاسداری کے چرچے ہر طرف تھے۔ آپ ایک شفیق، مہربان، رحمدل افسر بھی تھے۔ جس جس نے والد محترم کی ماتحتی میں کام کیا آج بھی وہ انہیں اچھے ناموں اور القابات سے یاد کرتے ہیں اور فراموش نہیں کرسکے ان سب کا کہنا ھے کہ ھم نے سردار حسین صدیقی مرحوم سے بے انتہاء سیکھا سمجھا اور جانا خاص طور پر ٹیکنکی مہارت اور نقاط کا ہنر جانا جو ایک ماہر علمیات کو ہی حاصل ہوتا ھے۔ ان سب کا کہنا ھے کہ جب بھی میرپورخاص شہر کی تاریخ لکھی جائیگی تو جناب سردار حسین صدیقی مرحوم سابق ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسر میرپورخاص کا نام سر فہرست لکھا جائیگا۔ آپکی محکمہ تعلیم میں مختلف منصب پر خدمات رہی ہیں اور اپنی بہترین خدمات کے پیش نظر شہر میرپورخاص شہر کے باسیوں کے دلوں میں زندہ جاوید ہیں۔ میرے والد محترم نے ریٹائرڈمنٹ کے بعد کراچی سکونت اختیار کرلی تھی، 14 اکتوبر 2002 کو خالق حقیقی سے جاملے، آپکی تدفین سخی حسن قبرستان میں کی گئی۔
