ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: میراثِ پیغمبری ۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
میراثِ پیغمبری کے متعلق واضع کرتا چلا کہ اس میں جہاں علماء کرام شامل ھیں اس فہرست میں مفتیان کرام مذہبی اسکالرز و ڈاکٹرز اور پیر عظام بھی ھیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد جیسے بیشمار مذہبی ڈاکٹروں نے مسلمانوں کو اللہ تبارک تعالیٰ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر عمل کرنے کا احساس اور ذمہداری کو اجاگر کیا۔ اسی طرح پیر عظام نے اپنے اپنے سلاسل چشتی قادری سہروردی اور نقشبندی کے آستانوں خانقاہوں سے درس قرآن و سنت کی تعلیمات کے ذریعے راہ راست کرتے چلے آرھے ھیں۔ موجودہ پندرہ ویں صدی زمانہ دجال کی ھے اس صدی میں بے پناہ بے راہ روی اور دجالی فتنے پرواز کررھے ھیں انکی پرواز انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں انتہائی سبک رفتار ھوچکی ھے وقت کا تقاضہ ھے کہ دجال کے ہر سامان رسد کو دین محمدی ﷺ کے پھیلانے اور ترغیب دینے میں علماء کرام پیر عظام اپنی اپنی ذمہداریوں کو انشاء اللہ بہت احسن انداز میں کریں گے اور کرنا چاہئے۔۔۔۔ معزز قارئین!! میراثِ پیغمبری کو قرآن و حدیث میں دیکھتے ہیں ۔۔ سورت آل عمران، 3/ 164 ترجمہ : بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے عظمت والا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھیجا جو انپر اسکی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ سورت النساء، 4/ 113 ترجمہ: اور اے حبیب! اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان دغابازوں میں سے ایک گروہ یہ ارادہ کرچکا تھا کہ آپ کو بہکا دیں، جبکہ وہ محض اپنے آپ کو ہی گمراہ کررہے ہیں اور آپ کا تو کچھ بگاڑ ہی نہیں سکتے، اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کردیا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے، اور آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔۔۔سورت يوسف، 12/ 22 ترجمہ: اور جب وہ اپنے کمالِ شباب کو پہنچ گیا تو ہم نے اسے حکمِ نبوت اور علم تعبیر عطا فرمایا، اور اسی طرح ہم نیکو کاروں کو صلہ بخشا کرتے ہیں۔۔۔ سورت النمل، 27/ 15 ترجمہ: اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو غیر معمولی علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے۔۔۔ سورت الفاطر، 35/ 28 ترجمہ: اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی اسی طرح مختلف رنگ ہیں، بس ﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو ان حقائق کا بصیرت کیساتھ علم رکھنے والے ہیں، یقینا ﷲ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے۔۔۔ سورت الرحمٰن، 55/ 1-4 ترجمہ: وہ رحمن ہی ہے۔ جس نے خود رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن سکھایا۔ اُسی نے اِس کامل انسان کو پیدا فرمایاo اسی نے اِسے یعنی نبیِّ برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماکان و مایکون کا بیان سکھایا۔۔۔۔۔حدیث مبارکہ ھیکہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعاليٰ نے مجھے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اسکی مثال اُس کثیر بارش کی طرح ہے جو کسی زمین پر برسی جو عمدہ زمین تھی۔ اس نے پانی کو جذب کرکے گھاس اور خوب سبزہ اگایا، اور زمین کے جو حصے سخت تھے انہوں نے پانی کو جذب ہونے سے روک لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سے لوگوں کو نفع سے نوازا کہ وہ اس سے پیتے اور اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں اور کاشتکاری کرتے ہیں۔ یہی بارش کا پانی جب کسی چٹیل میدان پر پڑتا ہے تو نہ وہ اسے روکتا ہے کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں اور نہ ہی اپنے اندر جذب کرکے گھاس اور سبزہ اُگانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ پہلی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے دین میں علم و فہم حاصل کیا اور اس ہدایت سے نفع حاصل کیا جسکے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا یعنی اس نے اسے سیکھا اور سکھلایا اور دوسری مثال اس محرومِ ہدایت شخص کی ہے جس نے اس ہدایت کے نزول پر اپنا سر اٹھا کر دیکھا اور نہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول کیا جسکے ساتھ مجھے بھیجا گیا نہ خود فائدہ اٹھایا اور نہ کسی کو اس سے فائدہ پہنچایا۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی طلبِعلم میں کسی راستہ پر چلتا ہے تو ﷲ تعالیٰ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالبِعلم کی رضا کیلئے اسکے پاؤں تلے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ عالم کیلئے زمین و آسمان کی ہر چیز یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی مغفرت طلب کرتی ہیں۔ عابد پر عالم کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے چودہ ویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے بیشک علماء، انبیاء کرام علیہ السلام کے وارث ہیں۔ انبیاء کرام علیہ السلام نے وارثت میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے اپنی میراثِ علم چھوڑی پس جس نے اس میراثِ علم کو حاصل کیا اس نے پیغمبرانہ میراث کا بہت بڑا حصہ پالیا حضرت ابو اُمامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا جن میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عابد پر عالم کی فضیلت اسی طرح ہے جس طرح میری فضیلت تم میں سے ایک ادنيٰ پر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ﷲ تعالیٰ، اسکے فرشتے، تمام زمین و آسمان والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلیاں بھی اس شخص کیلئے جو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے رحمت طلب کرتی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علمائے حق زمین میں ان ستاروں کی طرح ہیں جن کے ذریعے بحر و بر کے اندھیروں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ جب ستارے غروب ہو جائیں گے تو یقیناً ان ستاروں سے راہنمائی حاصل کرنے والے بھٹک جائیں گے یعنی علماء حق نہیں ہوں گے تو عوام گمراہ ہوجائیں گے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ کی خدمت میں علماء کرام کی فضیلت و افضلیت قرآن و احادیث کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی ھے عصر حاضر میں دھریئوں کمیونسٹ ذہن و سوچ رکھنے والے لوگ ھمارے معزز علماء کرام کی برائی کرنا اپنا مشغلہ بنالیتے ھیں جبکہ یہ خود دینی علم سے نابلد ھوتے ھیں۔ درحقیقت یہودی زائینسٹ جانتے ھیں کہ اس امت محمدی ﷺ کے مسلمانوں کے دلوں میں علماء کرام کی عزت و مقام موجود ھے ھم غیر مسلم کسی ایک مسلمان کو بھی ذرا بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے اس مشن کیلئے یہودیوں اور غیر مسلموں نے متحد ھوکر مسلمانوں کے ایسے لوگوں کو تلاش کیا جس کا دینی علم کم تھا یا تھا ہی نہیں انہیں دولت شہرت اور حسین عورت پیش کرکے اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ بنانے اور پھیلانے پر مامور کیا یہ سلسلہ کئی سالوں سے چلا آرھا ھے اور کئی شکلوں میں تبدیل بھی ھوتا رھا ھے موجوہ دور میں یہ کام قادیانی اور کمیونسٹ لوگ بھرپور انداز میں کررھے ھیں وقت کا تقاضہ ھے کہ ھمارے علماء کرام اپنے شاکردوں کو ملک بھر میں پھیلا کر قرآن کی تعلیمات کے جذبہ کو ابھاریں تاکہ اللہ اور اسکے آخری نبی ﷺ سے حقیقت پسندی کیساتھ عشق و محبت پیدا ھو اور وہ دجالی حملوں سے خود کو بچاسکیں۔ وقت ھے کہ امت محمدی ﷺ کو متحد رکھنے کیلئے مسلکی خول کو اتار باھر پھینک کر ایک اللہ ایک رسول خدا کی ایک امت بنکر زمانے کے سامنے آئیں تاکہ کفار و مشرکین و غیر مسلم امت محمدی ﷺ کو ورغرا نہ سکیں بہکا نہ سکیں گمراہ نہ کرسکیں یہ ھمارے علماء کرام کی بھی سب سے زیادہ ذمہدارای عائد ھوتی ھے کیونکہ آخرت کے دن ان سے اور ھم سب سے امامت کا حساب لیا جائیگا۔۔۔۔ !!
