مہنگائی میں کمی، لیکن ساختی چیلنجز برقرار – ایس ایم تنویر اور فراز الرحمٰن کا معاشی استحکام کے لیے فوری اقدامات پر زور
کراچی(اسٹاف رپورٹ)فروری 2025 کے لیے قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (NCPI) میں ماہانہ بنیادوں پر 0.3% کمی متوقع ہے، جس کی بنیادی وجہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہے۔ تاہم، بنیادی مہنگائی (Core Inflation) 8.8% سالانہ پر برقرار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قلیل مدتی ریلیف کے باوجود معاشی لاگت کے دباؤ بدستور موجود ہیں۔
یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر اور پاکستان بزنس گروپ (PBG) کے بانی و چیئرمین فراز الرحمٰن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اگرچہ مہنگائی میں استحکام کے آثار ہیں، لیکن معیشت میں بنیادی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے تاکہ طویل مدتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
فروری 2025 کے مہنگائی کے اہم نکات:
✅ فروری میں سالانہ بنیادوں پر 2.1% مہنگائی متوقع ہے، جو بیس ایفیکٹ اور قیمتوں میں استحکام کی وجہ سے نرم رہے گی۔
✅ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں -1.1% ماہانہ کمی متوقع، خاص طور پر آلو (-55%)، پیاز (-28%)، اور ٹماٹر (-21%) کی قیمتوں میں نمایاں کمی۔
✅ یوٹیلیٹی بلز میں استحکام، کوئی نیا QTA چارج نہیں اور فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) میں 0.47 روپے فی یونٹ کمی۔
✅ پیٹرول کی قیمت میں 0.9% اضافہ اور ڈیزل میں 2.4% اضافہ، جو ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کی عکاسی کرتا ہے۔
✅ ایل پی جی کی ریٹیل قیمت میں 7.4% کمی، جس سے گھریلو اور کاروباری طبقے کو کچھ ریلیف ملا ہے۔
UBG اور PBG کی پالیسی تجاویز:
1️⃣ بینک سود کی شرح 8% تک کم کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے اور فنانسنگ کی لاگت میں کمی آئے۔
2️⃣ بجلی کے نرخ 9 سینٹ فی یونٹ مقرر کیے جائیں تاکہ بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے اور صنعتی پیداوار کو سپورٹ کیا جا سکے۔
3️⃣ اشیائے خور و نوش کی مستحکم فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مہنگائی میں اچانک اضافے کو روکا جا سکے، خاص طور پر رمضان کے دوران۔
4️⃣ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات کو حد میں رکھا جا سکے۔
5️⃣ مقامی زراعت کو فروغ دیا جائے تاکہ درآمدی اشیاء پر انحصار کم ہو اور خوراک کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔
مہنگائی کا مستقبل اور معیشت کا استحکام
مارچ 2025 میں NCPI کے 1% سالانہ سے نیچے آنے کی توقع ہے، جو بیس ایفیکٹ کے سبب ہوگا۔ تاہم، رمضان کے بعد مہنگائی میں دوبارہ اضافے کا امکان ہے کیونکہ عالمی معاشی رجحانات اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مالی سال 2025 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 5-7% ہدف کے اندر مہنگائی برقرار رہنے کا امکان ہے، بشرطیکہ توانائی اور پالیسی کا استحکام برقرار رہے۔
کاروباری برادری کے رہنماؤں کی اپیل
ایس ایم تنویر اور فراز الرحمٰن نے کہا کہ اگرچہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے، لیکن معاشی استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سود کی شرح میں کمی، توانائی کے نرخوں کو قابل برداشت بنانے، اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے پر توجہ دے تاکہ کاروبار اور عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
"اب وقت آگیا ہے کہ طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے بروقت اور درست فیصلے کیے جائیں۔”
