BBC Urdu TV

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے کوپ 29 کا آغاز، عالمی رہنماؤں کی شرکت

آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی کانفرنس کوپ 29 جاری ہےجس میں دنیا بھر سے سیکڑوں عالمی رہنما اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کانفرنس آف دی پارٹیز کا 29واں اجلاس 22نومبر تک جاری رہے گا جس میں کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار اور اس مقصد کیلئبے مالی وسائل کی فراہمی پر بات چیت کی جائے گی۔

کوپ 29 کانفرنس کے موقع پر امریکی مندوب جان پوڈیسٹا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے باجود موسمیاتی تبدیلی سےمتعلق کام جاری رکھنےکےعزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ فوسل فیول سے دیگر توانائی ذرائع پر منتقلی آہستہ توکرسکتے ہیں مگر روک نہیں سکتے۔

کانفرنس میں یو این کلائمیٹ چیف کاکہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنےکے لیے فنڈنگ عطیہ ہے، موسمیاتی مالیاتی ہدف مکمل طور پر ہر قوم کے مفاد میں ہے۔

انڈونیشین مندوب نے کوپ 29 میں بتایا کہ ان کا ملک آئندہ 15سال میں 75 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی پیدا کرےگا۔

خبر ایجنسی کے مطابق آذربائیجان نے اجلاس میں کلائمیٹ فنانس ایکشن فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کی جس کے تح ت10 ممالک سے ایک ارب ڈالررضاکارانہ فنڈ اکٹھا کیا جائیگا۔

خبر ایجنسی کا بتانا ہے کہ آذربائیجان نے افٖغان موسمیاتی ایجنسی کوبطور مبصر اجلاس میں بلایا ہے اور افغان طالبان حکام بھی کوپ 29 اجلاس میں شرکت کریں گے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف بھی کوپ 29 سمٹ میں شریک ہیں اور وہ 13 نومبر کو سمٹ سے خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے پہلی مدت صدارت میں موسمیاتی تبدیلی پرپیرس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا مگربعد میں صدر جوبائیڈن نے اپریل 2021 میں پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیارکی تھی۔

کوپ 28 میں کیا ہوا تھا؟

گزشتہ سال دبئی میں ہونے والے کوپ 28 اجلاس میں ممالک نے پہلی بار توانائی کے نظام میں معدنی ایندھن سے دور ی اختیار کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم اس کے بعد سے معدنی ایندھن کے استعمال اور برآمدی فروخت دونوں میں عالمی سطح پر اضافہ جاری ہے، جبکہ آذربائیجان، امریکہ، نمیبیا اور گیانا جیسے ممالک میں تیل اور گیس کی پیداوار کے لیے نئے علاقوں کی منظوری دی گئی ہے۔

Exit mobile version