BBC Urdu TV

*موسمیاتی تبدیلیوں سے سالانہ 4ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے:سید راشد حسین بخاری*

*موسمیاتی تبدیلیوں سے سالانہ 4ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے:سید راشد حسین بخاری*

*پاکستان کا موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں 8واں نمبر،سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا:گفتگو*
*پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے آبی ذخائر کی تعداد میں اضافہ اور ایریگیشن کا نظام بدلنا ہوگا:نائب صدر*
*سال 2030ء تک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو 348 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی*
*نیشنل کلین ایئر پالیسی پر عملدرآمد سے ٹرانسپورٹ اور صنعتی دھویں کو 81 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے*
( )نائب صدر مستقبل پاکستان سید راشد حسین بخاری نے کہا کہ ملکی معیشت کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سالانہ 4 ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے اور یہ زیر زمین پانی کے ذخائر اور فصلوں کی پیداوار میں کمی کا باعث بھی بن رہی ہیں،پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں 8 واں نمبر پر ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق 2030ء تک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو 348 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی جوکہ پاکستان جیسے کمزور معیشت کے حامل ملک کے لیے اتنی خطیر رقم خرچ کرنا ممکن نہیں ہوگا ایسے میں حکومت کو اُن ممالک کوماحولیاتی تحفظ پر سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنا ہوگا جو کاربن اخراج میں سب سے زیادہ حصہ ڈال کر ماحولیاتی تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار موسمیاتی تبدیلیوں سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان اور حل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کلین ایئر پالیسی پر عملدرآمد سے ٹرانسپورٹ اور صنعتی دھویں کو 81 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے حکام کو اس پالیسی پر جلد از جلد عملدرآمد یقینی بناناہوگا۔سید راشد حسین بخاری نے کہا کہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر قابو پانے کے لیے آبی ذخائر کی تعداد میں اضافہ اور ایری گیشن کے ناقص نظام کو تبدیل کرنا ہوگا تاکہ پانی کے ضیاع میں کمی واقع ہو اور اگر ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی سے بچنا ہے تو وہ تمام عاداتیں ترک کرنا ہوں گی جو نقصانات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
03-01-2025

Exit mobile version