مودی کا دوبارہ وزیراعظم بن جانا بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ (شجاع الدین شیخ)
لاہور (پ ر): مودی کا دوبارہ وزیراعظم بن جانا بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی خطر ناک ثابت ہوگا۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارت میں لوک سبھا کے حالیہ انتخابات میں بی جے پی کو پہلے سے کم نشستیں ملی ہیں اور بھارتی عوام نے کانگرس اور سماج وادی پارٹیوں کو پہلے سے زیادہ ووٹ دیے ہیں پھر یہ کہ ایودھیا جہاں مودی حکومت نے مسمار بابری مسجد کے مقام پر مندر تعمیر کیا تھا وہاں بھی بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ
این ڈی اے (NDA) کے انتہا پسند ہندو پارٹیوں پر مشتمل اتحاد کی مکمل حمایت کے باعث نریندر مودی کا تیسری بار بھارتی وزیراعظم بن جانا تقریباً یقینی ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 2014ء کے بعد سے دنیا کے سب سے بڑے سیکولر ملک ہونے کا دعویدار بھارت ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک کٹر ہندتوا ریاست کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور آج مسلمانوں سمیت بھارت پر بسنے والی تمام اقلیتوں کو نسل کُشی کا شدید ترین خطرہ لاحق ہے۔ بی جے پی اور اُس کی اتحادی جماعتیں کُھلے عام بھارت سے مسلمانوں کا صفایا کرنے کے دعوے کر رہی ہیں اور آئے دن مسلمانوں کے مذہبی شعائر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کی تازہ مثال مودی کا انتخابات سے قبل یہ اعلان ہے کہ آئندہ وزیراعظم کے طور پر وہ عائلی قوانین کے حوالے سے بھارتی مسلمانوں کو دی گئی آزادی بھی ختم کر دیں گے۔ گویا مودی سرکار نے بھارت کے مسلمانوں کو صاف صاف پیغام دے دیا ہے کہ بھارت صرف ہندؤوں کا ہوگا۔ امیر تنظیم نے کہا کہ بھارت کے مسلمانوں کے لیے اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کے لیے متحد ہو کر ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر اُبھریں۔ اس مخدوش صورتِ حال کا یہ تقاضا بھی ہے کہ پاکستان سمیت امتِ مسلمہ کے عمائدین متحد ہو کر ظلم کی چکی میں پسے کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کی مدد کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
جاری کردہ
خورشید انجم
مرکزی ناظم نشرو اشاعت، تنظیم اسلامی پاکستان
