ملکی مسائل نو رٹرن کی حد تک پہنچ گئے،مافیاز عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ رہے ہیں:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
63 فیصد سے زائد بجلی درآمدی ایندھن سے پیدا کی جارہی ہے،متبادل ذرائع پر توجہ دینی ہوگی:چیئرمین
لیسکو کی 83 کروڑ یونٹ کی اووربلنگ ظلم کے مترادف،بجلی کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کا بھی آڈٹ کرایا جائے:گفتگو
توانائی بحران سے گھریلو صارفین کے ساتھ انڈسٹری بھی بندش کا شکار ہے، فوری طور پر ہنگامی اقدامات اٹھانے ہوں گے
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ملکی مسائل نو رٹرن تک پہنچ گئے ہیں مگر حکمران خواب خرگوش میں مگن ہوکر سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہا ہے،سیاست اور دیگر شعبوں میں موجود مافیاز ملکی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد عوام کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے درپے ہے،ملک کی 63 فیصد سے زائد بجلی درآمدی ایندھن سے پیدا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے یہ آئے روز مہنگی اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے شارٹ فال بڑھ رہا ہے،بجلی کی تقسیم کار کمپیناں صارفین کو زائد بل بھیج کر اپنی ناکامیاں چھپا رہی ہیں مگر اب عوام میں بھی مہنگی بجلی کا بوجھ برداشت کرنے کی سکت باقی نہیں رہی،حکومت بجلی پیداوار کے متبادل ذرائع پر توجہ دے تو اس سے جہاں اربوں ڈالر کا آئل بل کم ہوگا وہاں لوڈشیڈنگ کی بڑھتی ہوئی اذیت سے بھی چھٹکارہ ممکن ہوگا۔ان خیالات کا اظہار توانائی بحران کے خاتمے کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور الیکٹرک کمپنی کی جو 83 کروڑ یونٹ کی اووربلنگ سامنے آئی ہے اس سے باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دیگر تقسیم کار کمپنیاں بھی کس حد تک اس چور بازاری کا مرتکب ہورہی ہوں گے حکومت کو تمام کے خلاف شکنجہ سخت کرتے ہوئے قوم کا معاشی استحصال کرنے والوں کو سخت سزائیں دینی ہوں گی۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران کی وجہ سے عوامی مشکلات میں اضافے کے ساتھ ملکی انڈسٹری بھی بندش کا شکار ہے جس کی وجہ سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں اگر بروقت فیصلے اور اقدامات نہ اٹھائے گئے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
