BBC Urdu TV

* مقتدر قوتوں کو سنجیدہ فیصلہ کرنا ھوگا*

* مقتدر قوتوں کو سنجیدہ فیصلہ کرنا ھوگا*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

کراچی جسے معاشی حب کہتے ہیں جہاں پر معیشت تجارت کاروبار مقامی لوگوں کے پاس رھا ھے۔ معروض پاکستان کے بعد بھارت سے ہجرت نے والے مہاجرین نے اپنی قابلیت اہلیت ذہانت دیانت ایمانداری لگن محنت سے وطن عزیز پاکستان ہر سو ہر طرح ہر لحاظ ہر نقاط سے اسے ترقی کی منازل پر پہنچایا۔ ان بھارت کے ان مہاجرین نے بحری بری اور ہوائی تجارت کو بھی بہت بلندی پر پہنچایا مگر جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اپنے دور اقتدار میں تمام سرکاری بہترین اداروں کو نشنلائز کرکے متعصبانہ عمل کرکے نااہلوں کرپٹ پسندیدہ لوگوں کی بھرتیاں شروع کردیں ، رشوت کا سلسلہ شروع کیا، شفارش اور اقربہ پروری کا دریچہ کھول دیا ، قومی دولت کا زیاں بے دریغ کیا جانا شروع ہوا، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے دھوکہ میں جھانسہ دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو خود کو جمہوریت کی شہنشاہ کہلاتی پھرتی ھے اسی سیاسی جماعت نے خوشحال عوام کو بدحال کردیا۔ سنہ ستر سے ابتک درمیان میں جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف نے بھی اقتدار کے منصب پر برجمان ہوئے مگر ان جنرلز کے ادوار میں عوام اپنی بنیادی ضروریات بآسانی خرید سکتی تھی، سدتائی کا دور تھا۔ جب جب جمہوری حکومتیں برسرِ اقتدار پر برجمان ہوئیں انھوں نے عوام کا ہی خون نچوڑا۔ ریاست اور نظام ریاست کو باپ کی لونڈی سمجھا ، اب یہ حالت ہوگئی ھے کہ کراچی کے مقامی تاجروں کو تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ شروع کیا ھوا ھے۔ ایک جانب بے پناہ ٹیکس، اور کاروباری دستاویزات میں بے انتہاء رکاوٹیں تو دوسری جانب بھاری رشوت اور بھتہ کیساتھ ساتھ انکی املاک اور کاروبار کو آگ سے خاکستر کرنا آئے روز کا عمل بن گیا ھے۔ جناب آصف زرداری صاحب کے پہلے دور سے ابتک کا تحقیقی جائزہ لیں تو سوائے وڈیرے ، جاگیردار ، صوبائی پارلیمینٹیرین ہی بے پناہ دولت کے مالک بن چکے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے ایک ادارہ احتساب کا بنایا تھا اس کے تمام اختیارات چھین کر چھکا بنا ڈالا ھے ، اس قانون میں تمام کی تمام سیاسی جماعت براہ راست بلواسطہ و بلاواسطہ شامل رہی ہیں۔ ان بھارت سے ہجرت کرکے مہاجرین کی اولادوں کو مکمل قیود و سلاسل کردیا گیا جو کوٹہ سسٹم کی شکل میں رھا ھے یہ غیر انسانی ، غیر شریعی ، اور غیر اخلاقی عمل ھے، اس سے انسانی حقوق تلف ہورہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان پاکستانی مہاجرین کی اولادوں پر تعلیم کے راستے بند کردیئے، صحت کیلئے اسپتال قلیل کردیئے جن میں نہ دوائیاں اور نہ ہی ماہر ڈاکٹرز تعینات گو کہ شعبہ ہائے زندگی کے تمام انسانی ضروریات کو زنجیروں سے باندھ ڈالا۔ جب یہ حالات پیدا کئے تو بھارت سے ہجرت کرنے والے مہاجرین نے اپنی اولادوں کو نجی تعلیمی درسگاہوں سے مہنگے داموں پروفیشنل تعلیم دلانا شروع کردی اور انہیں بیرون ملک روزگار کیلئے بھیج دیا کیونکہ پی سی ایس ھو یا این ٹی ایس میں انکے ڈومیسائل و پی آر سی کے سبب کوٹہ میں ہی نہیں آتے گویا روزگار بھی بند۔ پھر جب ان مہاجرین کی اولادوں نے بیرون ملک جاکر اپنا مقام بنانا شروع کردیا اور معاشی طور پر خوشحال و مستحکم ہونا شروع ھوئے تو انہیں یہ بھی گوارا نہیں ھوا آخرکار صوبائی حکومت کی مشنری نے انتہائی گھٹیا اور غلیظ عمل شروع کردیا انکے کاروبار اور روزگار کو تباہ کرنا شروع کیا کہیں آگ لگواکے تو کہیں زمین بوس عمارت کرکے اس تمام عمل میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں اس عمل سے بھی تسکین نہیں ملی تو اسٹریٹ کرائم ، ٹارگٹ کلنگ اور اب ٹینکر و ٹرالر سے کچلنے کا عمل آئے روز جاری کیا ھوا ھے۔ یوں لگتا ھے سندھ انکی باپ کی جاگیر ھے یہ سدا سے بادشاہ تھے انہیں اپنی غلامی اور تاریخ یاد نہیں، یہ بھول گئے کہ پاکستان کے معروض وجود میں آنے سے قبل انکی اکثریت ہندؤں کی غلام اور ملازم تھی۔ انکا عمل ایک مسلمان کیساتھ کس قدر غلیظ بن چکا ھے جو کافر مشرک بھی کسی مسلمان کیساتھ ایسا سلوک شاید نہ کرتے ھونگے۔ اب مقتدر قوتوں نے سندھ بلخصوص کراچی کے متعلق سنجیدہ فیصلہ کرنا ھوگا اس ملک کی بقاء و سلامتی اور پاکستان کی خوشحالی کیلئے۔۔ !!

Exit mobile version