معروف تاجر رہنما اور پاکستان بزنس گروپ کے چیئرمین فرازالرحمان نے شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے
کہ یہ صنعتوں کیلئے ناقابل برداشت ہے اور اس سے بندش اور نئی سرمایہ کاری رک جائے گی۔اپنے ایک بیان میں فراز الرحمان نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباﺅ پر بینک دولت پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی میں ِ ِ شرح سود کو 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیاہے ،ملکی صنعتکاروں کی جانب سے کئے گئے مطالبے پر کوئی غور نہ کیا جاسکا اور ملکی صنعتکار بدستور مہنگے قرضے حاصل کرنے اور بھاری سود کی ادائیگی پر مجبور رہیں گے۔انہوں نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کچھ کمی کی توقع تھی جس سے انڈسٹری کو راحت کی سانس لینے میں مدد مل سکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں کمی کے دعوے کےبرعکس آج ہر چیز کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ گیس بجلی کی قیمتیں اب امیر کی دسترس سے بھی باہر ہوگئی ہیں۔ انہوں نے وزیرخزانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک لائیں اور تاجروں و صنعتکاروں کو ریلیف کی فراہمی کے اقدامات اٹھائیں ورنہ معاشی ترقی کیلئے کی جانے والی تمام کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔
