معدنیات کے شعبے میں خواتین کا کردار — بشریٰ سلیم کی مثال
تحریر: بشریٰ سلیم
ایگزیکٹو و بانی رکن
آل پاکستان مائن اونرز ایسوسی ایشن
پاکستان میں معدنیات کا شعبہ ہمیشہ سے مردوں کی اجارہ داری سمجھا جاتا رہا ہے۔ سخت پہاڑی راستے، زیرِ زمین کانوں کی کٹھنائی، اور فیلڈ ورک کی دشواریوں نے خواتین کو اس شعبے سے دور رکھا۔ مگر وقت نے ثابت کیا ہے کہ اگر جذبہ اور حوصلہ ہو تو عورت کے لیے کوئی میدان مشکل نہیں — اور اس کی ایک زندہ مثال بشریٰ سلیم ہیں، جو اس وقت پنجاب کی واحد خاتون ہیں جو بغیر کسی مرد کے سہارے، بغیر تنخواہ یا مالی سپورٹ کے، اپنی محنت اور لگن سے معدنیات کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایک حوصلہ مند سفر
بشریٰ سلیم نے اپنے والد کے انتقال کے بعد اُن کے کاروبار کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا، جب مائنز پر قبضہ مافیا کا زور تھا۔ انہوں نے قانونی علم، حوصلے اور ایمان کے ساتھ نہ صرف اپنے حقوق واپس لیے بلکہ اس شعبے میں خواتین کی نمائندگی کی نئی راہیں کھولیں۔
آج وہ بطور وکیل اور کاروباری خاتون، مائن اونرز ایسوسی ایشن کی فعال رکن ہونے کے ساتھ ساتھ، خواتین کو مائننگ میں شامل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
وہ اکثر کان کنی کے علاقوں میں خود فیلڈ وزٹ کرتی ہیں، مائنز کی نگرانی کرتی ہیں، اور مزدوروں کے ساتھ کام کرنے سے نہیں جھجکتیں۔ ان کا ماننا ہے کہ “عورت اگر گھر چلا سکتی ہے، تو ملک کی معدنی معیشت میں بھی حصہ ڈال سکتی ہے۔”–
خواتین کے لیے مواقع
بشریٰ سلیم کے مطابق خواتین کے لیے اس شعبے میں بے شمار مواقع ہیں، بس انہیں سمت اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ خواتین گھر بیٹھے آن لائن منرل پورٹل سسٹم کے ذریعے کام کر سکتی ہیں، معدنی لائسنسوں کی فائلنگ، ڈیٹا مینجمنٹ اور سرمایہ کاروں سے رابطے جیسے کام باآسانی کر سکتی ہیں۔
اسی طرح، وہ قیمتی پتھروں کی کٹنگ، پالشنگ، اور ڈیزائنر مصنوعات تیار کر کے گھریلو صنعت کو فروغ دے سکتی ہیں۔
خواتین کے لیے چھوٹے پیمانے کے پروسیسنگ پلانٹس یا جوائنٹ وینچر منصوبے بھی بہترین آمدنی کے ذرائع بن سکتے ہیں۔
حکومتی سرپرستی کی ضرورت
بشریٰ سلیم کا کہنا ہے کہ اگر حکومت خواتین کو نرم قرضے، فنی تربیت، اور مشینری اپ گریڈیشن کی سہولت دے تو پاکستان میں ویمن مائننگ نیٹ ورک کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق، “صرف ایک قدم کی ہمت درکار ہے۔ حکومت اور ادارے اگر خواتین پر اعتماد کریں تو وہ مائننگ انڈسٹری میں انقلاب لا سکتی ہیں۔”
وہ اس وقت مختلف سیمینارز اور فورمز میں خواتین کو مائننگ سے متعلق آگاہی دے رہی ہیں اور نئی نسل کو اس فیلڈ میں آنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
اختتامی کلمات
بشریٰ سلیم اس وقت پنجاب کی واحد خاتون مائن اونر ہیں جو بغیر کسی مرد کے ساتھ یا مالی مدد کے، خالص اپنی محنت، علم اور اعتماد کے ساتھ اس شعبے میں کام کر رہی ہیں۔
ان کی جدوجہد صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک پیغام ہے — کہ اگر عورت چاہے تو وہ ملک کے معاشی نظام میں بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومتِ پاکستان، ویمن چیمبر آف کامرس، اور ڈونر اداروں کو چاہیے کہ ایسی باہمت خواتین کے لیے مخصوص پروگرامز شروع کریں تاکہ معدنیات کے شعبے میں خواتین کی شمولیت بڑھے، اور پاکستان کی معیشت میں ایک نیا روشن باب لکھا جا سکے۔
