BBC Urdu TV

معاشی ترقی و بحالی باتوں سے نہیں عملی اقدامات سے ممکن ہوگی:انجیئر ندیم ممتاز قریشی

معاشی ترقی و بحالی باتوں سے نہیں عملی اقدامات سے ممکن ہوگی:انجیئر ندیم ممتاز قریشی

قوم 1955 سے معاشی ماڈل کی باتیں سنتی آرہی ہے مگر ان پر آج تک عمل نہیں ہوپایا،مسائل میں اضافہ ہورہا ہے:گفتگو

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پاکستان آج بھی انہی مسائل کی دلدل میں ہے جن سے 50 کی دہائی میں نبرد آزما تھا:چیئرمین

پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے کہ چھوٹے،درمیانے اور بڑے اہداف نہ صرف مقرر کئے جائیں بلکہ تکمیل کو بھی یقینی بنایا جائے

ملتان : چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ معاشی ترقی و بحالی باتوں سے نہیں عملی اقدامات سے ممکن ہوگی،پنج سالہ منصوبے پر کام کرنے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے،1955 سے قوم معاشی ماڈل کی باتیں سنتی آرہی ہے مگر ان پر آج تک عمل نہیں ہوپایا بلکہ صورتحال اس نہج تک آن پہنچی ہے کہ ملک بیرون ممالک قرضوں کے سہارے آگے بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی کڑی شرائط کے ذریعے قوم کو اجتماعی خودکشیوں پر مجبور کردیا ہے،جنوبی کوریا نے پاکستان کے ترقیاتی ماڈل پر عمل کرتے ہوئے معاشی مسائل سے چھٹکارہ پالیا ہے جبکہ ہم آج بھی قرضوں کے محتاج ہیں اور ان کے بغیر آگے بڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ملک پاکستان آج بھی انہی مسائل کی دلدل میں ہے جن سے 50 کی دہائی میں نبرد آزما تھا۔ان خیالات کا اظہار پنج سالہ ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے کہ چھوٹے،درمیانے اور بڑے اہداف نہ صرف مقرر کئے جائیں بلکہ ان کی تکمیل کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ ملک و قوم کو درپیش معاشی مسائل کم ہوں۔

Exit mobile version