معاشرے میں استادکا کردار
تحریر ۔۔۔۔ بشریٰ جبیں جرنلسٹ
کالم نگار تجزیہ کار
اینکر پرسن
معاشرے کو پروان چڑھانے میں سب سے بڑا کردار ایک استاد کا ہی ہوتا ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر سرورِ
دوعالم ﷺ نے اپنے لیے معلم کا منصب اختیار فرمایا، جس سے اس شعبے کو مزید چار چاند لگ گئے، لہٰذا اس منصب کی لاج رکھیں۔ ایک معلم میں وہی صفات ہونی چاہییں ،جو بطور معلم نبی کریم ﷺمیں موجود تھیں
ہر قوم و مذہب میں استاد کو اس کے پیشے کی عظمت کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔ استاد طلبا کو نہ صرف مختلف علوم و فنون کا علم دیتاہے بلکہ اپنے ذاتی کردار کے ذریعہ ان کی تربیت کا کام بھی انجام دیتا ہے۔ معاشرے کے تمام کام سنبھالنے والے افراد خواہ وہ کسی بھی شعبے اور پیشے سے وابستہ ہوں اپنے استاد کی تربیت کے عکاس ہوتے ہیں۔
استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حاصل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی وارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔
استاد کمرۂ جماعت یا مدرسہ کی چار دیواری تک ہی استاد نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ہر پل اپنی رفتار،گفتار،کردار غرض ہر بات میں معلم ہوتا ہے۔معلم کی ہر بات و حرکت طلبا پر اثر انداز ہوتی ہے۔طلباء صرف استاد سے کتاب یا اسباق ہی نہیں پڑھتے ہیں بلکہ وہ استاد کی ذات وہ شخصیت کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔۔۔۔
بقول شاعر
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں۔۔۔۔
اللہ پاک ہم سب کو علم واستقامت عطا فرمائے آمین
