معاشرے میں جہاں بھی اختلاف ہو جائے اس کا آسان اور سنہری حل یہ ہے کہ اس معاملے میں اللہ کا حکم دیکھ لیا جائے اور نبی کریمﷺ کے فرمان کے تحت لے آئیں گے تو اس عمل سے سوچیں تک درست سمت میں ہو جائیں گی اور یہ قدم ذات سے لے کر مکمل معاشرے بلکہ انسانیت کی فلاح اس میں پنہاں ہے۔ اگر پھر بھی معاملہ حل نہ ہو رہا ہو تو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس میں اپنی ذات اور سرکشی مقدم ہو گی۔
دارالعرفان منارہ میں جمعہ کے موقع پر حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم دین اسلام کو اپنی زندگی میں عملاًلے کر آئیں گے تو جو ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے وہ جان نچھاور کرنے والے ہو جائیں گےاور دین اسلام پر عمل کرنے کی چاہت اسے ایسی محافل اور ایسے لوگوں سے ملا دیتی ہے جو اسے قربِ الٰہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر کسی سے حفاظت ِ الٰہیہ اٹھا لی جائے تو وہ رحمت ِ باری سے محروم ہو جاتا ہے اور یہ سب من حیث القوم ہمارے اعمال کے نتیجہ میں ہےاور ہم معاشرے کی اصلاح نہیں چاہتے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ جو میں چاہتا ہوں اس پر عمل ہو اور یہ روش مزید تکلیف کا سبب بنتی ہے۔
معاشرے میں ہر ایک کا کردار اثر ڈال رہا ہوتا ہے، کوشش یہ کرنی ہے کہ اللہ کے حکم کے تحت آیا جائے اور اللہ کا حکم ماننا خوش نصیبی ہے۔ اور اپنے حصے کا کردار اور صالح عمل کو اختیار کیا جائے اور اس کو اللہ کے سپرد کر دیا جائے۔ تعمیل حکم ہی میرا مقصد ِ حیات ہے اور بندہ اللہ کا بندہ ہو جائے یہ حاصل ہے۔ بنیاد نیت ہے، خالص نیت سے مضبوط ایمان عطا ہو گا۔ تصوف و سلوک وہ راہ ہے جو نہاں خانہ ٔ دل میں اٹھنے والے جذبات کو درست کر دیتا ہے۔
یاد رہے کہ 40 روزہ سالانہ اجتماع مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری ہے اور اس کی اختتامی دعا 13اگست دن 11بجے ہو گی
