BBC Urdu TV

مصنوعی بارش فضائی آلودگی اور سموگ میں کمی کا مستقل حل نہیں ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

مصنوعی بارش فضائی آلودگی اور سموگ میں کمی کا مستقل حل نہیں ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

انسداد سموگ کی کارروائیو ں کے باوجودلاہور سمیت متعدد شہروں میں سموگ کا راج ہے:چیئرمین
ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے نام سے وزارت توقائم ہے مگر اس حوالے سے اقدامات کا فقدان ہے:گفتگو
پاکستان میں ہر سال فضائی آلودگی کی وجہ سے تقریباً 22 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں
فضائی آلودگی میں کمی کیلئے موثر آگاہی مہم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور اُن کی آبیاری پر توجہ دی جائے

چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ مصنوعی بارش فضائی آلودگی اور سموگ میں کمی کا مستقل حل نہیں ہے ماحولیات کی بہتری زیادہ سے زیادہ درخت لگانے میں مضمر ہے، انسداد سموگ کی کارروائیوں کے باوجود صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت متعدد شہروں میں سموگ کا راج ہے اور فضائی آلودگی شدید مضر صحت کے درجے پر پہنچ چکی ہے تاہم اس کے لیے ڈنگ ٹپاؤ و پالیسیوں کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اس کی وجہ سے جو انسانی جانوں کو لاحق خطرات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں اُن میں کمی واقع ہو، پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ماحولیات کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں،اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے صنعتی ترقی اور ماحولیاتی بقا کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھنا ہے۔ان خیالات کا اظہار فضائی آلودگی و سموگ کے تدارک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے نام پر الگ وزارت تو قائم کر رکھی جو دنیا کے اکثر ممالک میں نہیں لیکن اس کے باوجود مسائل حل نہ ہونے کی وجہ پالیسی بنانے والے اور فیصلہ سازی کرنے والوں کو اصل مسائل کا ادراک کم اور عملدرآمد کا فقدان ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال فضائی آلودگی کی وجہ سے 22 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں یہ تعداد لاکھوں میں ہے، اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ شجرکاری کرے اور درختوں کی آبیاری پر توجہ دے تو سموگ کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیاتی بہتری کے لیے طویل المدتی منصوبے تیار کیے گئے ہیں، جیسے کہ چین نے بیجنگ اور دیگر شہروں میں سموگ کم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے اور وہاں آلودگی میں 30 فیصد تک کمی لائی گئی، پاکستان میں بھی ایسے ہی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کو اس خطرے سے بچایا جا سکے
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
21-10-2024

Exit mobile version