BBC Urdu TV

مشہور فرانسیسی مصنف آندرے موروس کا کہنا تھا کہ” محبت کی طرح ادب میں بھی دوسروں کا انتخاب

شارلٹ برانٹے
آمنہ فردوس (جہلم)

مشہور فرانسیسی مصنف آندرے موروس کا کہنا تھا کہ” محبت کی طرح ادب میں بھی دوسروں کا انتخاب اور پسندیدگی ہمارے لئے حیران کن ہوتی ہے۔”

انگریزی ناول نگاری کی ملکہ شارلٹ برانٹے کے لیے میری محبت اور پسندیدگی کو لفظوں میں بیان کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ادب سے میری وابستگی میں والد صاحب کے ساتھ ساتھ جس دوسری شخصیت کا بڑا ہاتھ ہے وہ یہی محترمہ شارلٹ برانٹے ہیں (خدا ان کی روح کو ہمیشہ شاد رکھے) ان کا سخن میری زندگی کے تاریک ویرانے میں ایک چراغ امید ثابت ہوا۔شارلٹ کی تصانیف سے متاثر ہو کر ہی میں نے ایم اے انگریزی کرنے کا فیصلہ کیا۔بات کی جائے اگر شارلٹ کی ذاتی زندگی کے بارے میں تو یہ مینارہ نور شخصیت 21 اپریل 1816ء کو یارک شائر انگلینڈ کے علاقے تھارنٹن میں پیدا ہوئیں۔پیٹرک برانٹے جو ایک آئرش پادری تھے ،ان کی چھ اولادوں میں شارلٹ تیسرے نمبر پر تھیں۔شارلٹ سے بڑی دو بہنیں ماریہ اور لوزیا تھیں جبکہ ایک بھائی بران ویل اور دو بہنیں ایمیلی اور این شارلٹ سے چھوٹے تھے۔معاشی اعتبار سے نہایت پسماندہ خاندان 1820ء میں یارک شائر کے مغربی دلدلی علاقے ہاورتھ کی طرف ہجرت کر گیا۔اس ہجرت کے ایک سال بعد ہی مسز برانٹے کینسر کے باعث انتقال کر گئیں اور بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری ان کی سخت گیر خالہ الیزبتھ بران ویل کے سپرد کر دی گئی۔

1824ء میں شارلٹ کو اپنی تین بہنوں ماریہ، لوزیا اور ایمیلی کے ہمراہ "کلرجی ڈاٹرز سکول کووان بریج” بھیج دیا گیا جو کہ نہایت غیر معیاری بورڈنگ اسکول تھا۔صحت و صفائی کی ناقص سہولیات کے باعث اسکول میں وباء پھوٹ پڑی اور بڑی تعداد میں طالبات موت کے منہ میں چلی گئیں۔چند ہفتوں کے وقفے سے شارلٹ کی دونوں بڑی بہنیں ماریہ اور لوزیا بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔دو بیٹیوں کو کھونے کے بعد پیٹرک برانٹے اپنی باقی دو بیٹیوں کو واپس گھر لے آئے اور گھر میں ہی تعلیم دینے لگے۔اس زبوں حال بورڈنگ اسکول کی منظرکشی شارلٹ نے اپنے ناول "جین آئر” میں "لو ووڈ انسٹیٹیوٹ” کے ذریعے کی ہے۔

بڑی بہنوں کی موت کے بعد شارلٹ نے جس انداز میں خود کو اور اپنے بہن بھائیوں کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک خودمختار عورت بننے کی جدوجہد کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔یہی وجہ ہے کہ شارلٹ کے تمام ناولوں کا مرکزی کردار ایک پر عزم لڑکی ہوتی ہے جو زینہ بہ زینہ اپنے نامساعد حالات پر قابو پا کر زندگی میں آگے بڑھتی رہتی ہے۔یہ باوقار نسوانی کردار اپنے قارئین کو قابل تقلید عملی نمونہ فراہم کرتے ہیں۔شارلٹ اور اس کے چھوٹے بہن بھائی اپنی کٹر مذہبی قسم کی خالہ کی بے جا روک ٹوک کے باعث اپنی اپنی تخیلاتی دنیا تخلیق کرنے لگے۔مطالعے کا شوق ان میں بدرجہ اتم موجود تھا۔بچپن میں پروان چڑھنے والی تخیلاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ بہن بھائی بہت اچھے لکھاری بنتے گئے۔شارلٹ نے اپنے بھائی بران ویل کے ساتھ مل کر بے شمار فیری ٹیلز لکھیں جن میں "گلاس ٹاؤن” ٹیلز آف آئلینڈرز” "دی گرین ڈوارف” دی
فاؤنڈلنگ” اور "اسٹینکلفس ہوٹل” زیادہ قابل ذکر ہیں۔1834ء میں ان دونوں بہن بھائی نے "ٹیلز آف اینگریا” لکھی جسے پڑھ کر اچھا بھلا زیرک شخص بھی الف لیلوی دنیا کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

جنوری 1831ء میں 14 سال کی عمر میں شارلٹ رو ہیڈ کے ایک اسکول میں داخل ہوئیں۔لیکن ایک سال کے بعد ہی اسکول چھوڑ کر اپنی چھوٹی دو بہنوں کو گھر پر تعلیم دینے کی غرض سے واپس آگئیں۔1835ء میں گورنس کی نوکری اختیار کی اور 1839ء میں سج وک فیملی میں گورنس کی خدمات سرانجام دیں۔ چند ماہ بعد ہی ہاورتھ واپس آ گئیں جہاں ان کی دونوں بہنوں نے مل کر ایک اسکول کھولا تھا۔لیکن بھوک وافلاس کے ہاتھوں مجبور بچوں کو پڑھائی کی طرف مائل نہ کرسکیں۔یہ وہ دور تھا جب انگلینڈ کی معیشت بتدریج زراعت سے صنعتی انقلاب کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔انیسویں صدی میں انگلینڈ کی معاشی حالت وہی تھی جو آج کل پاکستان کی ہے۔اس بات کا اندازہ مجھے شارلٹ کے ناول پڑھنے کے بعد ہوا کہ ہم معاشی ترقی کے اعتبار سے برطانیہ سے تقریبا ڈیڑھ صدی پیچھے ہیں۔

1846ء میں شارلٹ نے اپنا پہلا ناول "دی پروفیسر” لکھا جسے پبلشرز نے شائع سے انکار کر دیا۔1847ء میں دوسرا ناول "جین آئر” لکھا جو نہ صرف شائع ہوا بلکہ شارلٹ کو شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔اس ناول کو شارلٹ کا میگنم اوپس کہنا کسی طور بے جا نہ ہوگا۔اس ناول کی بنیاد وہ تلخ تجربات ہیں جن کا سامنا شارلٹ نے اپنی دو بہنوں کی بے وقت موت اور کونسٹنٹن ہیگر کے ادارے میں زیر تعلیم ہونے کے عرصے میں کیا۔اگلے سال یعنی 1848ء میں شارلٹ کے تینوں بہن بھائی ایک ایک کر کے وفات پا گئے۔1849ء میں ایک اور ناول "شرلے” لکھا جو کافی مقبول ہوا۔1843ء میں شارلٹ نے برسلز کے ایک اسکول میں تدریسی خدمات انجام دیں تھیں اور وہاں کے تجربات نے ناول "ویلٹ” کے لیے بنیاد فراہم کی۔ 1853ء میں "ویلٹ” منظر عام پر آیا۔ادبی نقاد "ویلٹ” کو تکنیکی اعتبار سے شارلٹ کا بہترین ناول قرار دیتے ہیں۔ البتہ میں اس رائے سے متفق نہیں ہوں۔میرے نزدیک شارلٹ کا کوئی ناول "جین آئر” کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ میری ذاتی رائے ہے۔اور ہر کوئی ادب کو اپنی عینک سے دیکھتا اور پرکھتا ہے۔شارلٹ نے چند ایک نظمیں بھی لکھیں جو زیادہ مقبولیت حاصل نہ کر سکیں۔شارلٹ کے مکتوبات کا مجموعہ ان کی وفات کے بعد شائع کیا گیا۔

جون 1854ء میں شارلٹ نے اپنے والد کے نائب پادری آرتھر بیل نکلز سے شادی کرلی۔آرتھر میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو شارلٹ اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی تھیں۔لیکن افسوس کہ شادی کے پہلے ہی سال حمل کے دوران ہونے والی ایک پیچیدہ بیماری ہائپر میسس گریویڈیرم کے باعث 31 مارچ 1855ء میں ہاورتھ کے مقام پر 38 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔شارلٹ سینٹ مائیکل اینڈ اینجلز چرچ یارڈ ہاورتھ میں مدفون ہیں۔ 1855ء میں شارلٹ ایک ناول "ایما براؤن” پر کام کر رہی تھیں جو ان کی وفات کے باعث ایک نامکمل مسودے کی صورت میں باقی رہ گیا۔ایک آئرش مصنفہ کلیرے بائلن نے اس نامکمل مسودے کا باقی حصہ لکھ کر 2003ء میں شائع کروایا۔

Exit mobile version