مساجد نمازیوں سے بھری ہیں،ہر سال لاکھوں کی تعداد میں طلبامدارس سے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں
حج اور عمرہ پر بے انتہا رش لگا ہوا ہے۔یہ ساری مخلوق ہمیں عملی طور پر معاشرے میں نظر کیوں نہیں آرہی؟ یہ سب لوگ کہاں چلے جاتے ہیں حالانکہ یہ سب اعمال بندہ مومن کی عملی زندگی کو راہ راست پر لانے کا سبب ہیں۔ہمیں اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔سارا جہان راضی ہوجائے لیکن اللہ کریم راضی نہ ہوں تو کیا حاصل ہاں اللہ کریم راضی ہوجائیں مخلوق چاہے راضی نہ بھی ہو۔اللہ کریم ہر ایک کو ذاتی طور پر دیکھ رہے ہیں۔اگر ایمان کا یہ درجہ نصیب ہوجائے تو بندہ کانپ اُٹھے کہ میرے ہر عمل کو اللہ کریم خود دیکھ رہے ہیں نیت تک کو جانتے ہیں۔ہمارے نیک اعمال بھی رواجات کی نذر ہو رہے ہیں ہم رواجات کو دین کی نسبت زیادہ پابندی سے ادا کر رہے ہیں خدشہ یہ ہے کہ ہمارے رواجات دین پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔اسی لیے ہمارے اعمال میں اثرات باقی نہیں رہے۔نتائج نہیں مل رہے کیونکہ ہمارے اعمال خالص اللہ کے لیے نہیں رہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بے ایمانی،وعدہ خلافی،جھوٹ کا عام ہونا،کمائی کا حرام ہونا،لین دین میں کھوٹ اور خاندانی معاملات کو اپنی انا کی تسکین کے لیے اختیار کرنا یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے زمانے سے جوں جوں دور ہوتے جائیں گے انحطاط کا شکار ہوتے جائیں گے۔ہمیں اپنی ذاتی خواہشات سے نکل کر اطاعت رسول ﷺ کی ضرورت ہے۔تاکہ معاشرے میں امن قائم ہو ٹھہراؤ ہو سکون ہو۔۔صرف یہ دیکھا جائے کہ اللہ کریم کا حکم کیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس کام کو کرنے کا کون سا طریقہ ارشاد فرمایا ہے بات ختم ہمارا صرف یہ کام ہے باقی نتائج کا مالک وہ خود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذرائع معاش میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے جس پر آج کے زمانے میں توجہ نہیں دی جارہی۔جب ذرائع معاش میں غلط ہو رہا ہو،حلال کی بجائے حرام کمائی گھر میں آرہی ہو ایسے مال سے انفاق فی سبیل اللہ اُلٹا جرم بن جاتا ہے پھر جس کوصدقہ،خیرات دے رہے ہوتے ہیں اس پر بھی احسان جتاتے ہیں لوگوں میں بتاتے پھر تے ہیں کہ فلاں کی میں نے مدد کی تو جب تک کسی بھی عمل میں اللہ کی رضا شامل نہیں ہوگی وہ نیکی تصور نہیں کی جائے گی اس لیے اس کے اثرات بھی ہماری زندگیوں پر نہیں ہوں گے۔
اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔۔۔
