BBC Urdu TV

مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف وکلاء کا سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف وکلاء نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف درخواست غلام رحمان کورائی و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہے اور درخواست میں سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس اور سیکرٹری پارلیمنٹ ہاؤس کو فریق بنایا گیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 14 ستمبر کو وفاقی کابینہ نے آئین میں ترمیم کے مسودے کی منظوری دی تھی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئینی ترمیم کا مسودہ 15 ستمبر کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے پیش نہیں کیا جا سکا۔

درخواست میں کہا گیا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر پوری قوم کو اندھیرے میں رکھ کیا گیا ہے، وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ترمیم کا مسودہ تاحال وفاقی کابینہ میں پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ترمیم کا مسودہ جو سوشل میڈیا پر موجود ہے اس میں بیشتر شقیں عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہیں، وفاقی کابینہ کو مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کرنے سے روکا جائے اور آئینی ترمیم کا مسودہ پبلک کر کے اس پر بحث کے لیے 60 دن کا وقت دیا جائے

Exit mobile version