BBC Urdu TV

ماہ ِربیع الاول کی فضیلت اوراس کے تقاضے

ماہ ِربیع الاول کی فضیلت اوراس کے تقاضے

بشریٰ جبیں کالم نگار تجزیہ کار

ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا قمری مہینہ ہے۔”ربیع“عربی میں موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے، اور اوّل کے معنی ہیں: پہلا، تو ربیع الاول کے معنی ہوئے: پہلا موسمِ بہار۔ موسمِ بہار دو زمانوں پر مشتمل ہوتا ہے: ایک تو اس کا ابتدائی زمانہ،جس میں کلیاں اور پُھول کھلتے ہیں، اور دوسرا وہ زمانہ جب پھل پک جاتے ہیں، پہلے زمانے کو ربیع الاوّل یعنی پہلا موسمِ بہار، جبکہ دوسرے زمانے کو ربیع الثانی یعنی دوسرا موسمِ بہار کہا جاتا ہے۔جب ان مہینوں کے یہ نام رکھے جارہے تھے تو اس وقت بہار کے یہی موسم تھے، اورپھر بعد میں ان مہینوں کے یہی نام پڑگئے۔
اس مہینے میں سرورِ دو عالم حضور اقدس جناب محمد رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور یہ مقام کسی اور مہینے کو حاصل نہیں، اسی لیے جب آپ ﷺ سے پیر کے دن روزے کے بارے میں پوچھاگیا،تو آپ ﷺ نے اس کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس دن میں پیدا ہوا، جب پیر کے دن روزہ کو حضورﷺ کی ولادت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے، تو ماہِ ربیع الاوّل کوبھی آپ ﷺ کی ولادت کا مہینہ ہونے کی خاص حیثیت کے اعتبارسے سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت وفوقیت حاصل ہے

قرآن وسنت کی روشنی میں اس مہینہ سے متعلق مخصوص اَعمال کا کوئی ثبوت نہیں، اس لیے اس ماہ سے متعلق اپنی طرف سے اعمال وعبادات بیان کرنا شریعت میں زیادتی ہے جو کہ ناجائز ہے۔حضوراکرم ﷺ کا ذکر مبارک ایک اعلی ترین عبادت ہے، بلکہ روحِ ایمان ہے۔ آپ کی ولادت، آپ کا بچپن، آپ کاشباب، آپ کی بعثت، آپ کی دعوت، آپ کا جہاد،آپ کی عبادت ونماز، آپ کے اخلاق، آپ کی صورت وسیرت، آپ کازہدو تقوی، آپ کی صلح وجنگ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ، آپ کا اٹھنابیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، الغرض آپ کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت و سکون امت کے لیے اسوہ حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے اور اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا اور دعوت دینا امت کا فرض ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کو بیان کرنے کے دو طریقے ہیں:پہلاطریقہ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے ایک ایک نقشے کو اپنی زندگی کے ظاہر و باطن پر اس طرح آویزاں کیا جائے کہ آپ ﷺ کے ہر امتی کی صورت وسیرت، چال ڈھال، رفتارو گفتار، اخلاق وکردار آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کی تصویر بن جائے اور دیکھنے والے کو نظرآئے کہ یہ محمدرسول اللہﷺ کا غلام ہے۔دوسراطریقہ:جہاں بھی موقع ملے آپﷺ کے ذکر ِخیر سے ہرمجلس و محفل کو معطر کیا جائے۔ آپ ﷺ کے فضائل و کمالات اور آپﷺ کے بابرکت اعمال اور طریقوں کا تذکرہ کیاجائے۔سلف صالحین، صحابہ کرام ؓ و تابعین ؒاور ائمہ کرام ؒان دونوں طریقوں پر عمل کرتے تھے۔ وہ آپ ﷺ کی ایک ایک سنت کو اپنے عمل سے زندہ کرتے تھے اور ہر محفل و مجلس میں بھی آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا تذکرہ کرتے تھے۔نبی کریمﷺ کا ذکر مبارک انسان کی عظیم ترین سعادت ہے اور اس روئے زمین پر کسی بھی ہستی کا تذکرہ اتنا باعث اجر و ثواب اتنا باعث خیر و برکت نہیں ہوسکتا جتنا سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کا تذکرہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک غلطی یہ ہے کہ ہم نے سرکارِ دو عالمﷺ کا ذکر مبارک صرف ایک مہینہ یعنی ربیع الاوّل کے ساتھ خاص کردیا ہے اور ربیع الاوّل کے بھی صرف ایک دن اور ایک دن میں بھی صرف چند گھنٹے نبی کریم ﷺ کا ذکر کرکے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی کریمﷺ کاحق ادا کردیا ہے، یہ حضورِ اقدس ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس سے بڑا ظلم سیرتِ طیبہ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔اسلام رسمی مظاہروں کا دین نہیں ہے:بات درحقیقت یہ تھی کہ رسمی مظاہرہ کرنا صحابہ کرام ؓکی عادت نہ تھی وہ اس کی روح کو اپنائے ہوئے تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ اس دنیا میں کیوں تشریف لائے تھے؟ آپ ﷺ کا پیغام کیا تھا؟ آپﷺ کی کیا تعلیم تھی؟ آپ ﷺ دنیا میں سے کیا چاہتے تھے؟ اس کام کیلئے انہوں نے اپنی ساری زندگی کو وقف کردیا۔
اصل ربیع الاوّل اس کا ہے، جو رات دن ہر وقت حضور ﷺ کو یاد رکھتا ہے، سال میں ایک مہینے کے لیے نہیں، ایک دن کے لیے نہیں، بارہ ربیع الاوّل کے لیے نہیں، جس کی ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے، جو اللہ کے نبی کی سنت پر زندہ رہتا ہے، ہر سانس میں سوچتاہے اور اہلِ علم سے پوچھتا ہے کہ یہ خوشی کیسے مناؤں؟ شادی کیسے ہو؟ غمی کیسے ہو؟ ساری سنتیں پوچھتاہے اور سنت پوچھ کر سنت کے مطابق خوشی اور غمی کی تقریبات کرتاہے،تو جس کی ہر سانس سرورِ عالم ﷺ کی سنت پر فد ا ہو، اس کی ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے۔ جو شخص آپ کی سنت پرعمل کررہاہے اس کا روزانہ بارہ ربیع الاوّل ہے، کیونکہ آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہی ہے کہ امت آپ کے نقشِ قدم کی اتباع کرے، کیونکہ

آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے ایک ایک نقشے کو اپنی زندگی کےظاہر و باطن پر اس طرح آویزاں کیا جائے کہ آپ ﷺ کے ہر امتی کی صورت وسیرت، چال ڈھال، رفتارو گفتار، اخلاق وکردار آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کی تصوير بن جائے اور دیکھنے والے کو نظرآئے کہ یہ محمدرسول اللہﷺ کا غلام ہے۔
دوسراطریقہ:
جہاں بھی موقع ملے آپﷺ کے ذکر ِخیر سے ہرمجلس و محفل کو معطر کیا جائے۔ آپ ﷺ کے فضائل و کمالات اور آپﷺ کے بابرکت اعمال اور طریقوں کا تذکرہ کیاجائے۔
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

عیدمیلادالنبی کے موقعہ پر تمام مسلمانوں کو نیا عزم نیا حوصلہ اور عملی جذبہ عطا فرما کر سنت رسول پاک کا آئینہ بنائے آمین۔ ثم آمین

Exit mobile version