ماہ مبارک ربیع الاول کی مبارک ساعتوں میں جہاں ہم عشقِ مصطفے ﷺ کا اظہار کر ہے ہیں
وہاں ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہو گا یہ سب صرف رواجات کی نذ ر نہ ہو جائے۔آپ ﷺ کی بعثت عالی بندہ مومن کو پابند کرتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر لمحہ کو آپ ﷺ کے اتباع میں بسر کرے۔موجودہ حالات میں معاشرے میں نفسانفسی اور افراتفری کا ایک طوفان برپا ہے اور ٹھہراؤ اورسکون تب ہی ممکن ہے جب مقتدر ادارے اور صاحب اقتدار سے لے کر عام آدمی تک ان اسلامی اصولوں کو قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیوں میں نافذ العمل کریں گے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا سالانہ جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ پر ڈیرہ ملک نور ربانی کھر،سنانواں مظفر گڑھ میں خطاب۔
انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی ذات مبارکہ تمام مکتبہ فکر اور اقوام کے لیے نقطہ اتحاد ہے۔ہمیں اس ربیع الاول سے تفریق چھوڑ کر آپس میں اتحادو اتفاق کو فروغ دینا چاہیے۔ جتنا ہم دین سے دور ہوں گے اتنا ہم نقصان اٹھائیں گے۔ اپنے ہر قول و فعل میں اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کو لے آؤ دشمنی محبت میں بدل جائے گی۔اپنی ذات کو بیچ سے نکال دو اپنے ہر کام کی نسبت اللہ کریم کی طرف رکھو۔اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دو۔یہ ملک اللہ کے نام پر بنا اس کی ترقی کا راز بھی انہی اصولوں میں ہے جو اللہ کریم نے ارشاد فرمائے ہیں ہر کوئی جب اسے اپنی پسند کے مطابق کھینچتا رہے گا تو اس سے مزید نقصان ہو گا۔کیا ہماری سوچ سے لے کر عمل تک ہماراکردار ایسا ہے جس سے پتہ چلے کہ یہ محمد الرسول اللہ ﷺ کا غلام ہے۔
آخر میں انہوں نے ذکر قلبی سکھایا اور اجتماعی بیعت بھی فرمائی اس کے بعد ملک و قوم کی ترقی اور سلامتی کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔
