*بیدار ہونے تک*
*ماہرِ تعلیم عہد ساز شخصیت ”سردار حسین صدیقی علیگیرین مرحوم“*
*کالمکار: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*
کچھ شخصیات دنیا میں ایسی ہوتی ہیں، جو اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نہیں کرتی اور وقت کے ساتھ تاریخ کا بدنما حصہ بن جاتی ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی محکمانہ ذمہداریوں کو عبادت کی طرح خشوع وخضوع نیک نیتی خلوص اور سچائی کیساتھ نبھاتے ہیں، جن کی زندگی صرف انکی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ انکے کردار، علم، تربیت اور خدمت کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے رہتے ہیں۔ ”سردار حسین صدیقی علیگیرین مرحوم“ بھی انہی باوقار شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ محض ایک ماہرِ تعلیم نہیں بلکہ ایک ایسے استاد، منتظم، تحریکِ پاکستان کے رکن اور خاموش خدمت گزار تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی روشنی پھیلانے، نئی نسل کی تربیت کرنے اور ضرورت مند انسانوں کی مدد خاموشی کیساتھ کیں۔ انکا نظریہ تھا کہ نیکی اللہ کی رضا کیلئے کی جاتی ھے تو پھر اس طرح کی جائے کہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ انکے نزدیک ملازمت محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور عبادت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایمانداری، دیانت داری، سچائی، خلوص، صبر، شکر، قناعت اور انسان دوستی ان کی شخصیت کا نمایاں حصہ رہی۔
*”عام دکھائی دینے والے غیر معمولی لوگ“*
معزز قارئین! معاشرے میں بعض لوگ بظاہر انتہائی سادہ اور عام زندگی گزارتے ہیں، مگر انکے کردار کی گہرائی وقت گزرنے کے بعد سامنے آتی ہے۔ وہ شہرت کے طلب گار نہیں ہوتے، اپنے کارناموں کی تشہیر نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی نیکیوں کا چرچا چاہتے ہیں۔ سردار حسین صدیقی مرحوم بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ انہوں نے سادگی اور خاموشی کو اپنی زندگی کا شعار بنایا۔ جن لوگوں نے ان سے ملاقات کی، انکی صحبت پائی یا ان سے تعلیم و تربیت حاصل کی، وہ انکے اخلاق، خلوص اور شفقت کے معترف ہوئے۔ انکے شاگردوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے عملی زندگی میں نمایاں مقام حاصل کیا، مگر اپنے استاد کو کبھی فراموش نہ کیا۔ ایک استاد کی اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اسکے جانے کے بعد بھی اسکے شاگرد اسکی تعلیم اور تربیت کی گواہی دیتے رہیں۔
*ابتدائی زندگی اور تعلیم*
سردار حسین صدیقی بن علی حسین صدیقی بن سلیم اللہ صدیقی 7 اپریل سنہ 1929ء کو گاؤں بازید پور، تحصیل سہسوان، ضلع بدایوں، صوبہ یوپی، ہندوستان میں ایک مذہبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کی آٹھ اولادوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ابھی بچپن ہی تھا کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ایسے حالات میں انکے بڑے بھائی رفعت حسین صدیقی نے نہ صرف چھوٹے بھائی کی کفالت کی ذمہ داری سنبھالی بلکہ انکی تعلیم و تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کیا۔ رفعت حسین صدیقی اپنے زمانے میں دروغہ کے منصب پر فائز تھے اور مختلف مقامات پر انکی تعیناتیاں ہوتی رہیں۔ چنانچہ سردار حسین صدیقی نے بچپن ہی سے مختلف شہروں میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کی۔ سیکنڈری سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم کے دوران مرادآباد میں ایک شریف خاندان کے ہاں قیام کیا۔ اسی دور میں انکی سیاسی اور قومی شعور کی تربیت بھی ہوئی اور وہ تحریکِ پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ سنہ 1946ء میں وہ ضلع مرادآباد کی مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں نائب صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لیا اور قیامِ پاکستان کے بعد سنہ 1948ء میں بی اے کی تعلیم مکمل کی۔ یہی علی گڑھ سے وابستگی انکی شخصیت کیساتھ ”علیگیرین“ کی شناخت بھی جوڑتی رہی۔
*”پاکستان سے محبت اور ہجرت“*
قیامِ پاکستان کے بعد بھی ہندوستان میں ان کے لیے روزگار اور زندگی کے مواقع موجود تھے، مگر پاکستان سے انکی محبت محض جذباتی وابستگی نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی یقین تھی۔ بالآخر سنہ 1955ء میں انہوں نے اپنی اہلیہ سیدہ نایاب بیگم زیدی اور دو کم سن بیٹیوں، مہ جبین صدیقی اور پروین صدیقی کے ہمراہ پاکستان ہجرت کا فیصلہ کیا۔ مختصر سامان کے ساتھ بذریعہ ٹرین کھوکھراپار اور موناباؤ کے راستے پاکستان پہنچنا ایک خاندان کے لیے آسان سفر نہ تھا، لیکن وطن کی محبت نے تمام مشکلات کو آسان بنادیا۔ پاکستان پہنچنے کے بعد خیرپور میرس میں تقریباً ایک ماہ قیام کیا۔ اسی دوران محکمۂ تعلیم میں بطور مدرس ملازمت حاصل ہوئی اور انکی پہلی تعیناتی پریالو، ضلع خیرپور میرس کے ایک دیہی علاقے میں ہوئی۔ یہیں سے انکی زندگی کا وہ سفر شروع ہوا جس میں انہوں نے اپنی شخصیت کو ایک استاد، ماہرِ تعلیم اور نسل ساز معلم کے طور پر منوایا۔
*”تدریس سے تعلیمی قیادت تک“*
سنہ 1955ء- 56ء سے سنہ 1970ء تک سردار حسین صدیقی خیرپور میرس کے معروف گورنمنٹ ناز پائلٹ سیکنڈری اسکول میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ صرف تدریس کا زمانہ نہیں تھا بلکہ انکی صلاحیتوں، انتظامی قابلیت اور تعلیمی بصیرت کا بھی امتحان تھا۔ وہ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن خیرپور میرس ڈویژن کے صدر بھی رہے۔ سنہ 1970ء میں انہیں ہیڈ ماسٹر کے عہدے پر ترقی ملی۔ پہلی تعیناتی بنوں، ضلع ٹھٹھہ میں ہوئی اور بعدازاں گورنمنٹ مراد ہائی اسکول گمبٹ میں خدمات انجام دیں۔ سنہ 1970ء سے سنہ 1972ء تک ملکی تاریخ کے انتہائی کٹھن حالات انکے سامنے آئے۔ جنگ، قومی اضطراب اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ انکے عہد کا حصہ بنا۔ ایک محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے یہ سانحہ انکے دل پر بھی گہرا نقش چھوڑ گیا۔ فروری سنہ 1972ء میں وہ بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ کمپری ہینسو ہائی اسکول خیرپور میرس تعینات ہوئے۔ اسی دور میں انکے منجھلے بیٹے نیر اقبال صدیقی نے آٹھویں جماعت میں پوری کلاس میں تیسری پوزیشن حاصل کی تو ایک استاد باپ کی خوشی دیدنی تھی۔ یہی بیٹا آگے چل کر اپنی قابلیت اور محنت کے باعث پی سی ایس کے امتحان اور انٹرویو میں کامیاب ہوا، سندھ سیکریٹریٹ میں افسر کے منصب پر فائز رہا اور بعدازاں نیب میں بھی خدمات انجام دیں۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جو شخص دوسروں کے بچوں کو تعلیم اور تربیت دیتا رہا، اس نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں بھی کوئی کمی نہ چھوڑی۔
*”پرنسپل سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تک“*
سنہ 1972ء کے اواخر میں سردار حسین صدیقی کو گورنمنٹ ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ سکرنڈ، ایگریکلچرل کالونی میں بطور پرنسپل تعینات کیا گیا۔ تقریباً دو برس بعد ادارے کو تمام سازوسامان اور اسٹاف سمیت میرپورخاص منتقل کیا گیا۔ یوں سردار حسین صدیقی کی عملی زندگی کا ایک اہم باب میرپورخاص سے وابستہ ہوگیا۔ ابتداء میں کرائے کے مکان میں قیام کیا، بعدازاں خیرپور میرس کا مکان فروخت کرکے میرپورخاص میں اپنا گھر تعمیر کیا اور ملازمت کے اختتام تک وہیں مقیم رہے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے آخری مرحلے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تھرپارکر، میرپورخاص کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ یوں ایک استاد نے تدریس سے آغاز کرکے تعلیمی انتظام و قیادت کے مختلف مناصب تک سفر کیا، مگر منصب بلند ہونے کے ساتھ انکی سادگی کبھی بلند آہنگ نہیں ہوئی۔
*”استاد کی اصل میراث“*
کسی استاد کی میراث اسکے نام کی تختی، دفتر کی کرسی یا ریٹائرمنٹ کے کاغذات نہیں ہوتے۔ اسکی اصل میراث اسکے شاگرد ہوتے ہیں۔ سردار حسین صدیقی مرحوم کے شاگردوں میں ایسے افراد شامل رہے جنہوں نے تعلیم، سرکاری ملازمت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں مقام حاصل کیا۔ انکی کامیابیوں میں ایک خاموش استاد کی محنت شامل تھی۔ استاد خود شاید زندگی بھر گمنام رہے، مگر اسکے شاگردوں کی کامیابیاں اسکے کردار کا تعارف بن جاتی ہیں۔ اسی لیے کہا جاسکتا ہے کہ سردار حسین صدیقی مرحوم نے صرف طلبہ کو مضامین نہیں پڑھائے بلکہ انہیں زندگی کے آداب، محنت، دیانت اور کردار کی اہمیت بھی سمجھائی۔
*”پوشیدہ انسانی خدمات“*
انکی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو انکی خاموش انسانی خدمات تھیں۔ وہ مستحق افراد کی مدد کو محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی اور انسانی فریضہ سمجھتے تھے۔ متعدد واقفانِ حال کے مطابق انہوں نے کئی نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا، انہیں حصولِ علم کی ترغیب دی اور اپنی استطاعت کے مطابق مالی معاونت بھی کی۔انکی نیکی میں نمائش نہیں تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی جانے والی چھوٹی سی نیکی بھی انسان کی زندگی میں بڑی برکت کا سبب بن سکتی ہے۔ انکا یقین تھا کہ انسان اگر چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو اپنی عادت بنا لے تو بڑی نیکیوں کی توفیق بھی نصیب ہوتی ہے۔ انکی زندگی کا فلسفہ سادہ تھا: شکر، صبر، قناعت، انکساری، عاجزی اور سادگی ہی زندگی کا حقیقی حسن ہیں۔
*”پسماندگان میں بھی تعلیم کا چراغ“*
سردار حسین صدیقی مرحوم کی اہلیہ انکے انتقال سے تقریباً دو سال قبل وفات پاچکی تھیں۔ انکے پسماندگان میں دو بیٹیاں شامل رہیں جو پروفیسر اور ٹیچر کے شعبے سے وابستہ ہوئیں، جبکہ بیٹوں میں ایک ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ایک سول سروس سے وابستہ افسر، ایک کے پی ٹی میں افسر اور آخری بیٹا صحافت و کالم نگاری کے شعبے سے وابستہ ہوا۔ یہ بھی ایک استاد کی زندگی کی خوبصورت گواہی ہے کہ اس نے جس علم و تربیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا، اسی کا عکس اسکے گھرانے میں بھی نظر آیا۔
*”آخری سفر“*
ریٹائرمنٹ کے بعد سردار حسین صدیقی مستقل طور پر کراچی منتقل ہوگئے، جہاں انکی اولادیں برسرِ روزگار تھیں۔ 14اکتوبر سنہ 2002ء کو عشاء کی نماز کے بعد وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آج انکے انتقال کو کئی برس گزر چکے ہیں، مگر بعض لوگ وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے بلکہ مزید یاد آتے ہیں۔ انکی یاد اس لیے باقی رہتی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی صرف اپنے لیے نہیں گزاری تھی۔ آج کے دور میں جب تعلیم کو اکثر صرف ڈگری، ملازمت اور معاشی کامیابی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، سردار حسین صدیقی مرحوم کی زندگی ہمیں تعلیم کا اصل مفہوم یاد دلاتی ہے۔ تعلیم صرف کتاب پڑھنے کا نام نہیں؛ تعلیم انسان بنانے کا نام ہے۔ ایک حقیقی استاد وہ ہے جو اپنے شاگرد کے ذہن کو علم، دل کو انسانیت اور کردار کو دیانت سے آراستہ کرے۔ سردار حسین صدیقی مرحوم نے یہی کیا۔ وہ چلے گئے، مگر انکے شاگرد موجود ہیں۔ وہ خاموش ہوگئے، مگر انکی تربیت بول رہی ہے۔ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر انکے کردار کے چراغ آج بھی روشن ہیں۔ ایسی شخصیات کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اسکے عہدے، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس علم، کردار اور خیر سے ہوتی ہے جو وہ اپنے بعد چھوڑ جاتا ہے۔ چراغ خود جلتا ہے تو روشنی دوسروں تک پہنچتی ہے۔سردار حسین صدیقی مرحوم نے اپنی زندگی کا چراغ علم، تربیت اور انسانیت کے لیے جلائے رکھا۔ آج انکی یاد ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم بھی اپنے حصے کا ایک چراغ روشن کریں۔ اللہ تعالیٰ سردار حسین صدیقی مرحوم کی مغفرت فرمائے، انکے درجات بلند فرمائے، انکی علمی، تعلیمی اور انسانی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور انکے لگائے ہوئے علم و کردار کے چراغوں کو نسل در نسل روشن رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!
