BBC Urdu TV

قلزمِ فیوضات حضرت العلام مولانااللہ یار خانؒ تحریر: امیر عبدالقدیر اعوا ن

قلزمِ فیوضات حضرت العلام مولانااللہ یار خانؒ
تحریر: امیر عبدالقدیر اعوا ن

رشتوں سے بندھی اس حیات میں والدین کے بعد،میں جس رشتے سے آشنا ہوا وہ شیخ کا رشتہ تھا۔میرے ابو جی (قاسم فیوضات حضرت مولاناامیر محمد اکرم اعوانؒ) کے شیخ المکرم، قلزم فیوضات حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ۔
آپ ؒ ہمارے گھر کی ہربات،ہرسوچ،ہر خیال کا محور و مرکز تھے۔ابو جی کی حیات ِمبارکہ میں حضرت قلزم فیوضات سے بڑھ کے کوئی تعلق اہم نہ تھا۔ہم چھوٹے سے تھے،جب حضرت العلام مولانا اللہ یار خان ؒ ہمارے ہاں تین،تین ماہ کے لیے تشریف لاتے۔ ہمارے گھر میں برکات کا سیل رواں یوں اُمڈآتا کہ ہرلمحہ ایک رونق،ایک گہما گہمی کا احساس لیے ہوتا،والدہ محترمہ(امی جان)کے لیے اعلیٰ حضرتؒ کا ہرکام اپنے ہاتھوں سے کرنے کی لگن اور سرجوشی انہیں مزید تازہ دم کردیتی اور ابو جی اعلیٰ حضرت ؒکے ساتھ ساتھ ان کے لیے آنے والے مہمانوں کی مدارت میں سرگر م دکھائی دیتے۔بچپن میں بھی اُس وقت،میں گھر کی فضا میں رونق اور ٹھراؤکو واضح طور پر محسوس کرتا۔
آہستہ آہستہ مجھے حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ کی ذات ایک کوہِ فلک بوس محسوس ہونے لگی۔وہ میانہ قد کے ہونے کے باوجود نہایت قدآور محسوس ہونے لگے۔ جلال و دبدبہ ان کی شخصیت کاحصہ تھے۔ان کی نگاہوں کی تاب لانے کی مجال کسی میں نہ تھی لیکن ان کی نرم گفتاری مجھے ان کے قریب لے جاتی۔
وہ حقیقتاًقلزم فیوضات تھے۔زندگی کے حالات نے انہیں باقاعدہ تحصیل علم کی مہلت بیس بائیس سال کی عمر میں جاکردی اور پھر آپؒ دشتِ علم کی تحصیل میں دس سال تک سرگرداں رہے۔آپ ؒنے فارسی تعلیم بھیرہ،صرف ونحو کی تراکیب کوٹ فتح خان،دورۂ حدیث ڈلوال(نزد کلرکہار)اور اعادہ دورۂ حدیث مدرسہ امینیہ دہلی سے مفتی کفایت اللہ صاحب سے کیا۔بیضاوی،طحاوی شریف اور ہدایہ یہیں مکمل کیں۔ درس نظای کے ساتھ ساتھ آپ ؒ نے عربی وفارسی کتب کی تکمیل کے لیے صرف و نحو،مطق،تفسیر،حدیث کے علاوہ ردِفرقہ باطلہ اور فنِ مناظرہ میں کمال حاصل کیا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں تحقیق و جستجوکا شوق خاص طورپر ودیت فرما رکھا تھا۔دین کے ظاہری علوم میں آپ ؒاپنے اساتذہ سے علمی مباحث اور فکروتدبر سے اوجِ کمال پہ پہنچ گئے۔بحر علومِ ظاہری کی شناوری میں مصروف تھے کہ اللہ کریم نے آپؒ کو علومِ باطنی کی نعمت سے نوازنے کے لیے خواجہ عبدالرحیم ؒکی خدمت میں پہنچادیا۔یہاں بھی سماع موتیٰ کے مسئلہ پر حضرت عبدالرحیم ؒکے چوپال میں بیٹھے لوگو ں سے فرمان……..”آپ لوگ کہتے ہیں مردے سنتے نہیں۔میں آپ کو کیسے سمجھاؤں کہ وہ مجھ سے باتیں کرتے ہیں“……..کی تحقیق پہ امتحاناً ان کے ساتھ جانے والی ہستی ارادتاًان کے قدوم میں بیٹھ گئی اور وہ حالتِ مراقبہ میں بے اختیار فرما گئے۔ ”جس کا انتظار تھا وہ آگئے“ اور پھر تصوف کے زینہ پر رکھا جانے والا یہ قدم انہیں مجددِطریقت کے مقام پرلے گیا۔آپؒ نے اس دورِ پرفتن میں جب یا تو روحانیت کا انکار تھا یا نقل،اُسے اُس کی اصل کے ساتھ متعارف کرایااور مخلوق خدا کو انتہائی سہل،سادہ اور خوبصورت اندازمیں اس کی حقیقت سے آشنا کروادیا۔یوں کہ کوئی بھی،کسی بھی طبقہ اور مکتبہ فکر کا مرد و زن حاضرِ خدمت ہوا۔وہ منازلِ سلوک، جن کا تزکرہ صاحبِ سلوک کرتے ہوئے ہچکچاتے تھے،آپؒ نے ڈنکے کی چوٹ پہ بیان فرمائیں اورآنے والے کو اس کی خلوصِ نیت کے مطابق وہاں تک پہنچایا بھی۔یہاں تک کہ آپ ؒ کی مسجد میں پانی بھرنے والا شخص بھی فنا فی الرسول ﷺ تھا۔اس دور میں جبکہ سائنسی ترقی کا غوغا بلند ہورہاتھا۔آپ ؒ نے کتابوں میں درج روحانی حقائق عملاًکرواکر ان کا ثبوت دیااور ثابت کیاکہ دماغ کی رسائی، ہنوز قلبی رسائی سے بہت پیچھے ہے۔ذہنی طاقتیں، روحانی قوتوں کی خاک کو بھی نہیں پاسکتیں۔آپؒ سے کراما ت تو سرزرد ہوئیں ہی،آپؒ نے کشف ووجدان بھی ثابت کر کے دکھائے۔گویا آپ ؒ نے تصوف منوا کے دکھایا۔آپ ؒ کی تحاریر ہوں یا تقاریر۔ مدلل، پرُمغزاور واضح طور پہ تصوف کو دین کی روح ثابت کرتی ہیں۔آپؒ کی ہر بات پرُیقین اور ببانگِ دہل ہواکرتی۔کسی بھی باطل قوت میں یہ دم نہ تھاکہ وہ اس مردِ حق کے سامنے دم مار سکے۔آپؒ نے بیسیوں کتب تصنیف فرمائیں۔موضوع تصوف پہ آپؒ کی شہرۂ آفاق کتاب ”دلائل السلوک“ آج بھی تصوف سمجھنے کا شو ق رکھنے والوں اور راہ سلوک کے متلاشیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
آپؒ تمام تر حیات،دین حق کی سربلندی کے لیے پابہ رکاب رہے۔ آپؒ کا سفر وحضر فقط اور فقط احیائے دین کے لیے تھا۔آپؒ کی شب بیداریاں کبھی بھی دن کی سعی مسلسل پراثر انداز نہ ہوتیں اور دن کی تھکاوٹیں، کبھی شب بیداریوں پہ اثر انداز نہ ہوسکیں۔آپ ؒ کی حیات مطالعہ،بیان،ذکر،مراقبات اور خالصتاً دین کے لیے اسفار سے عبارت رہی۔
قارئین کرام! یہ سطور لکھتے ہوئے میں یوں بھی دیدۂ پرنم لیے ہوں کہ اللہ کی راہ میں جاگنے اور دین کی بلندی کے لیے تحقیق وجستجومیں مگن رہنے والی نگاہیں،جب ہمارے ہاں آتیں تو مجھے نہایت محبت سے تکا کرتی تھیں۔دینی حقائق کو کھول کر بیان کرنے والے قلم کو تھامنے والے ہاتھ مجھے انتہائی شفقت سے چھوا کرتے اور وہ دامن جس نے ایک جہان میں گہر باری کی،مجھے اپنے اندر سمیٹاکرتا تھا۔
میری انتہائی خوش بختی کہ میرا نام بھی انہوں نے ہی رکھا۔میرے قلب وذہین میں آج بھی وہ یادیں درخشاں ہیں۔آموں کے موسم میں، میں جب بھی ان کے پاس جاتا وہ ملک احمد نوازصاحب کو پکارتے ”احمد نواز ملک آیا اے۔امب دیووئی ملکے نوں“ (ملک آیا ہے،بھئی ملک کو آم دیں)۔
میری والدہ بتاتی ہیں کہ شیرخوارگی میں،ایک دن میں بہت رو رہاتھا۔انھوں نے حضرت جی ؒ سے عرض کی ”اسے دم کردیں“ انہوں نے دم فرمانے کے بعد فرمایا ”اسے اکرم سے دم کرواتی رہا کرو“ انہوں نے سادگی سے عرض کیا ”وہ میرے ہاتھ ہی نہیں آتے“ فرمانے لگے ”آؤ میں اپنی بیٹی کو دم بتاتا ہوں، تم خود کرلیا کرنا“ یوں انہیں دم سکھایا۔
18فروری 1984کا وہ لمحہ مجھے آج بھی یاد ہے جب رضائے الہٰی نے مجھے ایک شیخ کے پہلو سے اٹھا کر دوسرے شیخ کے سینہ سے لگا دیا۔اس وقت ابو جی کے قلب پہ جو درد اُترا ’وہ‘ آج خود شیخ بننے کے بعد میرے دل میں یوں اتر رہاہے کہ ہرماہ فروری میں اپنے قلب کی گہرائی کا اندازہ نئے سرے سے ہوتا ہے۔

Exit mobile version