BBC Urdu TV

قربت کے رشتوں کا احساس مانند نہیں ہوتا

*قربت کے رشتوں کا احساس مانند نہیں ہوتا*

تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی

ماں باپ اور پھر بہن بھائی وہ قربت والے رشتے ہیں جنہیں فرسٹ بلڈ یا خونی رشتے کہتے ہیں، ماں باپ کے رشتے وہ احساسِ لاثانی و لافانی ھوتے ہیں جو حیات کے آخری لمحات تک تروتازہ ساتھ رہتے ہیں جبکہ بہن بھائی کے رشتوں میں ایثار قربانی شفقت نرم دلی نرم گوشہ اور ادب و احترام کا وہ احساس رشتہ ہوتا ھے جو ہمیشہ قائم رہتا ھے یہی سبب ھے کہ بزرگ اور والدین ہمیشہ اپنے بڑے بچوں کو تلقین کرتے تھے کہ چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ رکھو اور چھوٹوں کو پابند کیا جاتا تھا کہ وہ بڑوں کا ہمیشہ ہر صورت ادب و احترام کو قائم رکھیں انہی اعمال صالح سے روحانی رشتوں میں درد و احساس کی تاثیری عمل رہتا ھے۔ آج کے تیزی سے چلنے والے زمانے میں جب ان سنہری اقوال کو درگزر کرتے ھوئے مخالف راہ پر چل نکلتے ہیں تو رشتوں میں روحانی درد و الم اور احساس کی تاثیر زائل ھوجاتی ھے اور اس مقام پر خودغرضی لالچ اور منافقت کے جراثیم جم جاتے ہیں۔ ایسے عمل کرنے والوں کی آنکھیں بند ھوجاتی ھیں کان بہرے ہوجاتے ہیں جبھی تو بڑے بزرگ کہتے تھے اچھا سوچو اچھا کہو اچھا گمان رکھو جو ایسا کرتے ہیں وہ قربت کے رشتوں کی چاشنی سے مالا مال کردیئے جاتے ہیں کیونکہ رب العزت نے بندے بنیاں بنائیں اور ان میں رشتوں کی کلاسیفیکیشن ترتیب کی اور پھر ہر ایک کا مقام متعین کیا اسی لئے کہا گیا ھے کہ اپنے مقام کے تحت اپنا کردار ادا کرو یہی کردار تمہیں مقام عزت و مقام اعلیٰ پر پہنچائے گا اور اپنے مقام کی لاج نہ رکھو گے تو رسوائی مقدر ٹھرے گی باعقل باشعور انسانوں کیلئے اس میں بڑی نشانیاں ھیں۔۔۔۔!!

Exit mobile version