BBC Urdu TV

قرادادِ پاکستان کے اہم محرکات

قرادادِ پاکستان کے اہم محرکات

تحریر: امیرعبد القدیر اعوان

وطن عزیز انگریز وں نے مسلمانوں سے لیا تھا اور اصول بھی یہی ہے کہ کوئی قوم جس سے وہ ملک لیا گیا ہو۔اگر اس ملک کی سلطنت چھوڑی جاتی ہے، حکومت چھوڑی جاتی ہے توواپس اس کے سپرد کی جاتی ہے۔لیکن حالات ایسے نہیں تھے۔انگریز برصغیر سے اس لیے گیاکیونکہ اس پر ہندو اور مسلم آبادیوں کا پریشر تھا۔ جب جنگ عظیم برپا ہوئی اس جنگ عظیم نے انگریز کو اس حد تک کمزور کردیا کہ نہ صرف یہاں سے بلکہ دنیا کے بے شمار خطوں سے اسے اپنی فوج واپس بلانا پڑی، وہ کمانڈ نہیں کرسکتاتھا، کنٹرول نہیں کرسکتا تھا۔ علامہ اقبال نے الٰہ آباد کے جلسے میں دوقومی نظریہ پر بات کی کہ ہندو مذہب الگ ہے، مسلمانوں کا مذہب الگ ہے۔ آج جہاں مینار پاکستان ہے اور اللہ شاہد ہے، شاید میں غلط ہوں، میں سمجھتا ہوں ہمارے بچوں کی کثیر تعدادجو سوائے اس کے کہ یہ ایک Monumentہے،یہ ایک خوبصورت جگہ ہے، یہ ایک سیر گاہ ہے۔ اس سے آگے کچھ جانتے ہوں کہ اس کی تعمیر میں،اس کی بنیادوں میں کتنی اللہ کی مخلوق ہے۔ جن کا خون اور ہڈیاں صرف ہوئیں؟ہماری آج کی نسل اس کی تعمیرکے فلسفے سے اس طرح آشنا ہی نہیں ہے کہ جس کشت خون پر،جن ظلموں کو سہتے ہوئے افراد نے اس کی بنیادوں میں اپنی زندگیوں کا حصہ ڈالا۔
بات میں نظریہ پاکستان کے حوالے سے کرنا چاہ رہا ہوں۔23 مارچ 1940کوجو مطالبہ اور Discussion آل مسلم لیگ جو متحدہ مسلم لیگ تھی کے پلیٹ فارم سے دیا گیا۔ میں نے مختلف جگہ سے چنداقتباسات اکٹھے کئے۔ کس نظریے پر ہم نے یہ وطن عزیز حاصل کیاہے؟میں تھوڑا سا وہ حصہ جو اس سے متعلق ہے اختصار سے عرض کرتا ہوں۔
The Lahore Resolution قراد داد لاہو ر
The Muslim League helds its annual session at Lahore on 22 to 24 March 1940. The Lahore resolution was moved by Mulvi Fazul Ul Haq and second by Chuhdory Khaleeq Uz Zaman that finally approved on March 24, 1940. Jinah rightly expressed his viewable remarks about the politics circumstances of India
The muslims stands he said:
آگے وہ الفاظ ہیں جو محترم قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے ہیں۔وہ فرماتے ہیں۔
” The Indian problem is not tunal but international no consitution can work without recognizing this reality, muslims of India will not accept a constitution that established a Government of Hindu majority on them, if Hindus and Muslims are placed under one democrative system this would means Hindu Raj”
معزز قارئین میں آپ کے سامنے قرار داد کا متن عرض کرتا ہو ں۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ
۱۔ وفاقی نظام جو کہ انڈین ایکٹ 1935کے تحت ہو وہ مسلمانوں کونامنظور ہے۔
۲۔ کوئی نیا تبدیل کردہ آئینی منصوبہ قابل قبول نہیں۔ جب تک اس کی منصوبہ بندی مسلمانوں کی رضامندی اور منظوری سے نہ ہو۔
۳۔ شمال، مغرب اور مشرق میں ملحقہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ علیحدہ آزاد مسلمان مملکت بنائی جائے۔ جہاں کا آئین خود مختیار اور آزاد ہو۔
۴۔ مسلم اقلیت کے حقوق کی حفاظت کو اہمیت دی جائے۔
یہ وہ نقاط ہیں جو اس قرارداد کامتن ہیں۔ اس کے ساتھ میں نے عموما ً میڈیا پر یہ دیکھا اورسنا ہے کہ جب وطن عزیز معرض وجود میں آیاتو نفاذاسلام کے لیے جو آج بحث وتمہید ہور ہی ہے۔تب وہ کیوں نہیں ہوئی۔ لیکن اس وقت اس سلسلے میں جو اخذ کردہ نقاط 1956 میں آئین کا حصہ بنے۔ وہ بھی قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
۱۔ حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن اس نے مملکت پاکستان کے سپرد کی، اپنے بندوں کے توسط سے ان اصولوں حدود کے درمیان جو کہ اس نے بیان فرمائے جو کہ ایک متبرک ذمہ داری ہے۔
۲۔ مملکت اپنی طاقت اور حاکمیت اپنے منتخب کردہ بندوں سے چلائے گی۔
۳۔ اسلامی قوانین، جمہوریت،آزادی، مساوات، برداشت اور معاشرتی انصاف کاپوری طرح عمل ہوگا۔
۴۔ مسلمان اپنی ذاتی اور اجتماعی طرز زندگی قرآن اور سنت کے مطابق طے کریں گے۔
۵۔ اقلیتوں کو اپنا مذہب اور تہذیب اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔
۶۔ پاکستان میں ایک فیڈریشن ہوگی۔
۷۔ بنیادی حقوق کی ضمانت ہوگی۔
۸۔اور آخری آٹھوں پوائنٹ جسے آئین کا حصہ بنایا گیا تھا۔ قراد داد مقاصد کے متن کو سامنے رکھتے ہوئے۔ عدلیہ آزاد ہوگی۔
اب میں وہ محرکا ت بیان کرناچاہوں گاکہ جن محرکات کی بناء پر حالات اس نہج کو پہنچے۔متحدہ ہندستان میں پاکستان کو الگ اسلامی بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے جومحرکات میں پہلا محرک ہے وہ فرقہ وارانہ فسادات ہیں، ملک آزاد ہو گیا، لاکھوں جانیں قربان ہو گئیں اور آج پھر وہی فرقہ وارانہ فسادات؟ پاکستان بنانے کا دوسرا محرک معاشرتی تقسیم تھایعنی معاشرے میں جو مقام ومرتبے کی تقسیم تھی۔چونکہ ہندو مذہب میں انسانوں میں بے شمار درجے ترتیب دیے گئے ہیں اوریہ ممکن بھی نہیں ہے کہ جو ہندو اعلیٰ درجے کا ہے،اس کے ساتھ کسی ادنیٰ درجے کے ہندو کا ہاتھ یا اس کا کپڑا یا اس کی کوئی چیزمس کر سکے۔ یعنی معاشرتی حالات اور معاشرتی حالات میں وہ حیثیتوں کی تقسیم۔پاکستان کی تعمیر میں تیسرا محرک مسلم زبان و ثقافت ہے۔زبان وثقافت وہ تقابل جو ہمیں قرب عطا کرتا ہے دین محمد الرسول اللہ ﷺ اوراس وطن عزیز میں اپنی ثقافت دیکھیں، ثقافت کے نام پر آج ان اکہترسالوں میں جو بیج ہم نے بویا ہے اس کا درخت کہاں کھڑا ہے؟ اس کی چھاؤں میں ہم گرمی سے کتنامحفوظ ہیں؟ پھر بات آئی دو قومی نظریہ کی جو حضرت علامہ اقبال رحمۃ علیہ نے الٰہ آباد کے اپنے خطبہ میں بیان کیا۔ جس نظریے پر ہم نے وطن عزیز حاصل کیا۔ میں یہ سمجھتا ہو کہ جن نظریات پر ہم نے اپنی قوم کو جوان کیا ہے۔ اس میں جذبات بھی بہت شدت رکھتے ہیں۔ Aggression بہت زیادہ ہے اور پھر اوپر سے یہ جتنے points تھے ان میں کتنی خوشحالی ہم نے حاصل کی ہے؟جو دعویٰ حق، جو کلمہ حق، جو محبت محمد الرسول اللہ ﷺ کے دعوے دار ہیں اور جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس میں ہمارے کردار کا حصہ کہاں تک جا رہا ہے؟ چہ جائیکہ معاشرے کی بات کی جائے۔ پھر آگے جو پانچواں پوائنٹ آتا ہے 1937ء کی کانگرسی وزارتوں کا۔چونکہ انگریزمسلمانوں کو یہ ملک نہیں دینا چاہتا تھا۔اس نے کانگرس کو طاقت دی۔ کانگرس طاقت کے بل بوتے پر مسلمانوں پر ظلم کرتے تھے۔Reaction میں ایک حصہ یہ بھی شامل ہے۔چھٹا اور آخری پوائنٹ جو میں نے تحقیق کرتے ہوئے محرکات میں اخذ کیا ہے وہ ہے اسلامی نظام کا قیام۔
یہ وہ ساری گزارشات ہیں جو 22 تا 24 مارچ 1940ء کو علامہ اقبال پارک میں، جس کی یاداشت کے لیے 1960ء میں مینار پاکستان تعمیر کیا گیا،جو صرف اس لیے تعمیر نہیں کیا گیا کہ میرے اور آپ کے بچے وہاں سیر کو جائیں۔اس لیے تعمیر کیا گیا کہ ہماری آنے والی نسل اپنے والدین سے یہ سوال کرے کہ بابا یہ کیا ہے؟اوراس کی تعمیر کا مقصد کیا ہے؟وہا ں پر یہ پیش کی گئی اور تقریباً ایک لاکھ افراد کا مجمع تھا جنھوں نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا۔
تاریخی اعتبار سے برصغیر وہ خطہ ہے جہاں دنیا بھر سے جو بھی اقوام اس قابل ہوئیں کہ اپنے ملک سے نکل کر کسی دوسرے ملک پر چڑھائی کر سکیں۔یہاں پر ہر طرف سے مختلف اوقات میں حملہ آور آئے۔ کیا وجہ تھی؟ یہ وہ خطہ زمین ہے جسے اللہ جل شانہ نے ہرطرح کے موسموں سے نوازا ہے۔ہر طرح کے زمین کے زیروبم سے نوازا ہے اور اس خطہ زمین کے زیرزمین حصے میں ہر وہ شے ہے جو رب العالمین نے اس دنیا میں پیدا فرمائی۔اس خطہ زمین کا گرم پانیوں کے ساتھ بھی جوڑ ہے اور برفستان کے ا ن حصوں میں جو دنیا کے Heighest peak کے ساتھ بھی اس کا جوڑ ہے۔ اس میں دنیا کی زندگی بسر کرنے کے لیے،ضروریات زندگی کو اکٹھا کرنے کے لیے،ضروریات زندگی کو پیدا کرنے کے لیے،بے پناہ وسائل پیدا کیے۔جب بھی یہاں کوئی ایسا حاکم آیا کہ جس نے ملک تعمیر کیا تو اس نے یہاں پر اتنی ترقی کی کہ دنیا کی اقوام جو اس قابل ہوئیں کہ کہیں سے اگر ہمیں کچھ حاصل ہو سکتاہے۔ حملہ آور ہو کریاچالاکی سے یہاں سے حاصل کرے، وہ اس خطہ زمین تک آئے۔یہ دنیا کی تاریخ ہے۔جتنی بھی یہاں فوج کشی کی گئی، ان سب کا مقصد یہی تھا کہ یہاں سے جو مال و زر ہے وہ اکٹھا کیا جائے۔جس وقت تک ان کے اندر قوت قائم تھی کہ تسلط قائم رکھ سکتے تھے۔تب تک ہر حملہ آور قوم نے یہاں تسلط قائم رکھا۔ انگریزکمزور ہوا۔یہ بات صرف 1947ء کی نہیں ہے۔ جنگ آزادی لڑنے والوں کے بڑے کارنامے ہیں۔آپ تاریخ کھولیں ان کی باتیں سن کر انسانی وجود کا خون گرم ہوجاتا ہے۔ جنھیں ہم ہی میں سے میر جعفر اور میر صادقوں نے انگریز کے سامنے بیچا اور انھوں نے ڈاکو کہہ کرانھوں قتل کیا اور پھانسیاں لگائیں۔ ان کی زندگیوں کے حالات دیکھیں۔وہ اپنے ملک،قوم، اپنے دین کی آزادی کے لیے کس طرح لڑے؟اگر 1857ء کی جنگ آزادی کو دیکھ لیں توکتنے لوگ تہہ تیغ ہوئے؟کتنے لوگوں کے سینوں پربندوق کی گولی آکرٹھنڈی ہوئی؟ پھر چلتے چلتے بات جب دو قومی نظریہ پر آئی۔ علمائے کرام بھی ساتھ ہوگئے۔جن میں سے کچھ علماء جیسے ابو کلام آزاد رحمۃاللہ جیسے لوگ، انھوں نے اس بات کی مخالفت بھی کی کہ ایسا نہ کرو،آپ کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔یہ تاریخی حقیقت ہے۔ پریس والے اگر تلاش کریں تو وہ اخبار بھی کسی نہ کسی لائبریری میں ضرور مل جا ئے گا، پورا صفحہ چھپا تھا۔ جب مولانا آزاد لاہور آئے اور ریلوئے سٹیشن پر لوگوں نے hesitaion کی،ان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی تو وہ ٹرین سے باہر آگئے۔ انھوں نے فرمایاتم لوگ نعرے لگا رہے ہو۔ میں دین کا مخالف نہیں ہوں۔ لیکن میں سمجھتاہوں کہ ان لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد بھی جس مقصد کو تم جارہے ہو،اس کا حصول مجھے نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ میں شاید زندہ رہوں یا نہ رہوں، یہ بات یاد رکھنا۔
معزز قارئین!تقسیم ملک دین اسلام کے نام پر بننے والی مدینہ منورہ کے بعد یہ دوسری حکومت ہے۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی۔ ہمارے لیے1947 ء کی ہجرت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں یہ ہجرت ایسے تھی جیسے کوئی ایک شہر سے دو سرے شہر آگئے ہوں۔ہم ان ٹرینوں کے شاہد نہیں ہیں کہ جس ٹرین کا صرف ایک ڈرائیور سلامت پاکستان پہنچا۔ باقی سارے مرد وزن، بچے، بوڑھے، جوان ہر کوئی تہہ تیغ ہوکر راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ بچوں کو نیزوں پر چڑھا کر پاکستان کے نعرے لگوائے گے کہ یہ لواپنا پاکستان۔ حکومتی حساب کتاب کے مطابق چوراسی ہزار ہماری بچیاں ہندووں اور سکھوں کے گھروں میں رہ گئیں۔قارئین! ایک لمحے کو سوچیں تو سہی کہ میں اور آپ اس طرح ہجرت کررہے ہوں۔ نہ ہمارا گھر ہو، نہ ہمارا مال محفوظ ہو، نہ ہماری جان محفوظ، نہ ہماری عزت محفوظ، نہ ہمارے والدین محفوظ، نہ ہماری بیوی محفوظ، نہ ہماری بیٹی محفوظ، نہ ہمارے جگر گوشے محفوظ،نہ اپنے سینے محفوظ ہوں، اس لمحے کو خیال تو کر کے دیکھو۔تصور بھی اگر کرو گے تو انسان کے رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا؟ کہ ہم عام آدمیوں کے لیے قانون اور ہو۔ ہمارے بچے تو بھوک سے مریں اور صاحب اقتدارطبقے کے مور مر جائیں تو بھی اس کے لیے ذمہ دار معطل ہوجائیں۔کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا؟کہ امیر کا مقام او ر ہو غریب کا مقام اور ہو۔ امیر کی عزت او ر ہو غریب کی عزت اور ہو۔کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا!ہمیں فرقہ وارانہ،نسلی فسادات میں الجھایادیا گیا۔ہمارا معاشرہ ایک دوسرے کو زیر کرنے میں مصروف ہے۔ ہم اپنی تخلیق کے مقصد سے کتنے دور جا چکے ہیں؟ محمد الرسول اللہ ﷺ اللہ جل شانہ سے شناسائی عطا کرنے کاواحد ذریعہ ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْھِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الممتحنۃ:(6 بحثیت بندہ مومن راہنمائی کے لیے حضرت محمد ﷺمبعوث ہوئے ہیں۔ہم عاشقان رسول ﷺ کہلاتے ہیں۔ ہم آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ عشق کرتے ہیں۔ہمارے اعمال جو ہم عملی زندگی میں اختیار کرتے ہیں کیا اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہماری محبت محمد الرسول اللہ ﷺ سے ہے؟ یاد رکھیے جب مسلمان معاشرے حلال و حرام کی تمیز چھوڑ دیتے ہیں توقومیں تقسیم ہو جاتی ہیں اور اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ ایک ددسرے کے گلے کاٹتے ہیں۔ جب کہ اللہ جل شانہ نے اس دارفانی میں جو بھی مخلوق پیدا کی ہے ان سب میں انسان کواشرف المخلوقات بنایاہے۔ معززقارئین! آج کے اس 23مارچ1940 کے دن کے حوالے سے میری صرف اتنی گزارش ہے کہ میرے اور آپ کے پاس ایک اختیار ہے خدارا اس کا خیال کر لو۔میں اور آپ بائیسواں کروڑواں پاکستان ہیں۔ میں اور آپ ایک پاکستان ہیں۔معاشرے افراد سے بنتے ہیں۔خداراہ اس پاکستان کا خیال کریں۔ اللہ رب العالمین ہمارے اس وطن عزیزکی بھی حفاظت فرمائے۔ اس پر اللہ کا قانون نافذ ہو۔ اس کو اس نہج پر چلائیں کہ اللہ کریم مجھے اور آپ کواس چھ فٹ کے بدن پر نفاذِ اسلا م کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
تیرے نور سے ہیں روشن میری راہیں دو جہان
تیرا نام میرے دل میں چمک رہا ہے
کبھی نور بانٹتا تھا تیرا قافلہ جہان میں
مگر آج تیرا مسلم ظلمت میں گھر گیا ہے
اسے اک نظر عطا کر اسے خود سے آشنا کر
یہی ہے علاج اس کا ورنہ یہ مٹ رہا ہے

Exit mobile version